Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p165

Riyāḍ al-inshāʾ p165

p165

۱۲۹ ٦٢-٣٦١ ( اواخر رمضان) هندوستان پہنچنے کے بعد خواجہ نے یہ مکتوب کسی ایشیائی مملکت (گیلان؟) کے شاہزادے کو لکھا ہے۔ ابتدا میں شاهزادے کے حسب و نسب اور ذاتی اوصاف کی تعریف ھے اور یہ بھی درج ھے کہ میرا دل همیشه آپ کے خاندان کے احسانات کے ذکر میں مشغول ھے۔ مکتوب کے وسط میں نصیحتیں بھی ھیں ۔ وہ یہ ھیں کہ بادشاہوں کی دل کی مراد اسی وقت بر آسکتی ھے جب کہ ان کی ذات حسن صفات سے آراستہ ھو، اور خلق خدا صفات حسنہ کے لحاظ سے ان کو شاہی کا سزاوار سمجھے ۔ بادشاہوں اور بادشاهزادوں کو نیک اوصاف حاصل کرنے کے لئے علما اور اکابر ) تجربه کار سیاست دانوں) کی صحبت اور مشورہ سے استفادہ حاصل کرنا چاھئیے ۔