Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ

The Gardens of Composition

Letters of the Bahmanī vizier on the Deccan campaigns (Goa, Vijayanagara, Orissa) and diplomacy.

Date
1466–1481 CE
Author
Maḥmūd Gāwān
Place
Bidar (Muḥammadābād)
Extent
1,284 passages, 139,375 words
Text
partly digitised
Source
archiveorg · Riyadul Insha; ed. Shaykh Chand bin Husayn; Silsilah-yi Matbūʻāt-i Majlis-i Makhtūtāt-i Fārsīyah; Dār al-Tabʻ… · Scan of a printed edition hosted by the Internet Archive (archive.org); the ancient text is in the public…

Contents

Text

p1

ارکان مجلس

p2

۱) عالی جناب نواب علی یاور جنگ بہادر (صدر نشین

p3

(۲) الاستاذ ہارون خان شروانی (۳) دکتور نظام الدین (۴) دکتور قاری کلیم الله (۵) دکتور یوسف حسین خان (۶) مولینا دکتور عبد الحق (۷) مولینا سید هاشمی فرید آبادی

p4

۸) دکتور غلام یزدانی (معتمد اعزازی

p5

رکن اعزازی

p6

مولینا حبیب الرحمن خان شروانی المخاطب به نواب صدر یار جنگ بہادر (٣٥) جواب مكتوب الى خدمة المولى الفاضل السيد ابراهيم بن سيد الشريف نور الله ضريحه (٣٦) الى ولده الكبير المخاطب من الحضرة العالية بملك التجار ادام الله تعالى ظلاله عليه ما تتابعت الليالى والنهار (٣٧) ماكتب اليه من الله تعالى بخلود ظل والده عليه (٣٨) الى جناب السامى مولينا عبد الرحمن الجامي ادام الله تعالى ظلال ارشاده (٣٩) الى السلطان الكيلانى ادام الله ايام عمره الى يوم الدين و اخبار فتح قلعه سنگسر و غيره و حالات ولده عبدالله (۴۰) جواب مكتوب الى حضرت المخدوم الاعظم الاكرم السامى مولينا عبدالرحمن جامی (۴۱) جواب مكتوب الى حضرة المولى الفاضل جلال الملة والدين الدواني و يطلبه الى هندوستان بالتدريس في مدرسة (۴۲) جواب مكتوب الى جناب العالم العامل مولينا كمال الدين فاضل الرومى على يد ولده مولينا خليل الله ادام الله فضايله و بقائه (۴۳) جواب مكتوب الى المولى الفاضل ابوبكر الطهراني و دعاه الى الهندوستان (۴۴) جواب مكتوب الى جناب مخدوم الاعظم الاكرم خواجه خواجگان خواجه عبد الله قدس روحه (۴۵) الى ابن اخيه عميد الملك بالمكة المشرفة عظمها الله تعالى (۴۶) جواب مكتوب الى واحد من وزراء محمد شاه البهمني (۴۷) الى ولده الصغير المخاطب به الئخان قدس الله روحه (۴۸) جواب مكتوب الى بعض وزراء دكن وكان المخدوم في سنگيسر (۴۹) جواب مكتوب الى واحد من الخلان من عسكر سنگيسر (۵۰) نسخة مكتوب الى المولى الفاضل القاضى شرف الدين المخاطب بعيدر جهان (۵۱) جواب مكتوب من لسان السلطان الاعظم محمد شاه البهمنى الى السلطان الاكرم محمود شاه الكجراتي ، خلد الله ملكها (۵۲) الى ابن اخيه الجناب الفاضل و الاديب الكامل جمال الملة والتقوى و الدين حسين حين وصل الى بندر دابول من المكة المشرفة و كان المخدوم في سنگيسر تمہید از مدیر

p7

مجلس کو اس کتاب کی اشاعت کا خیال مدت سے تھا ۔ لیکن لائق مصحح کے نہ ملنے سے یہ آرزو پوری نہ ھوتی تھی ۔ مجھے بے حد مسرت ھوئی جب پروفیسر شیخ چاند حسین نے ریاض الانشاء کی تصحیح کے لئے اپنی آمادگی ظاھر کی ۔ مجلس نے فوراً پروفیسر موصوف کو کام کرنے کی اجازت دیدی ۔ شیخ چاند حسین صاحب دکتور مارگولیوتھ کے شاگرد ھیں ۔ اور پونا کے اورینٹل ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھی بہ حیثیت استاد نہایت اعلی خدمات انجام دیچکے ھیں ۔ ریاض الانشاء کے متن کی تصحیح انہوں نے نہایت محنت اور قابلیت سے کی ھے ۔ لیکن طباعت میں صحت کا معیار چونکہ ہندوستان میں اب تک یورپ کے مشہور مطبعوں کے معیار کو نہیں پہنچا ھے ، اور کتاب کی عبارت بھی نہایت مرصع اور مُغلّق ھے اس لئے بعض مقامات پر غلطیاں نظر آئینگی ۔ باہم شیخ صاحب کی جانکاہی کو ہم سراہے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور یہ انہی کی کوشش کا نتیجہ ھے کہ کتاب کا متن مع ان کے عالمانہ مقدمہ اور حواشی اور اشاریہ کے آپ کے سامنے پیش ھے ۔ مجلس مخطوطات فارسیہ ان کی عالمانہ خدمات کا اعتراف کرتی ھے اور ان کو اس وقیع کام کی تکمیل پر مبارکباد دیتی ھے ۔

p8

فن انشاء بھی فارسی ادب کا ایک اہم جزء ھے۔ میں نے خود خانگی تعلیم میں انشاٴ مادھو رام اور رقعات میرزا قتیل پڑھے تھے۔ اور کالج کے نصاب میں بھی انشاٴ قائم مقام فارسی درس میں شامل تھی ۔ ایشیائی دماغ کی کاوش اور ندرت پسندی نے اس فن کو کمال پر پہنچا دیا ۔ چنانچہ تشبیہ و استعارہ ، تلمیح و کنایہ اور معانی اور بیان کی کوئی صنعت ایسی نہیں ھے جو فارسی نظم میں تو موجود ھو اور انشاٴ پردازوں نے اس کو چھوڑ دیا ھو ۔ شاعروں نے بہاریہ قصیدے لکھے ھیں ، فارسی مکتوبات میں بھی بہاریہ تلازمہ موجود ھے ۔ چنانچہ

p9

"و قراضهٔ از کان معانی بسورت آتش طبع در دارالضرب ضمیر مسبوك می ساخت ، و صفحهٔ بیان آن را باسم شریف سلاطین و اخوان مسکوك می داشت ، و در نظر صرافان بازار دانش سره می نمود ، و بر محک خاطر اهل فضل و بینش از سمت ثنا بے بهره نبود ، و در هر طرف که وارد می شد کواکب مناقب و محامد از مطالع السنهٔ افاضل و اماجد ظاهر می گشت اگر چه در مقابله کلام بلغای عالی مراتب تقابل سیف قاضب و مخراق لاعب است ، اما ابکار معانیٔ جمیله اش در حلی و حلل عبارات جزیله از نتائج خاطر این فقیر است، ولآلی تراکیب و زواهر اسالیبش از شآبیب ضمیر این حقیر چه بعرایس افکار حسن و وشاح افصاح افاضل زمن قلم تصنیف و طومار تالیف بدست گرفتن ، و بلباس کسان میان افاضل و اکابر زمان دعوی قوت انشا و اختراع کردن عین ننگ و عار و محض شین و شنار است و با وجود آنکه بحر کرم وجود حضرت واجب الوجود از لآلی فیض مملو است و افاضت دیم کرمش بر مفارق تمام امم امری مرجو ، دیدهٔ مع پر فراید قلایدهٔ خواطر اذکیاء داشتن ، و صورت عروس شهرت و ناموس خود را بآن آراستن ، شیوۀ کسی است که گنجینهٔ مخترعات مردم را قبله ساخته بمال مقروض مستعار میان متمولان رستهٔ بازار افتکار دستار افتخار و استکبار بر فرق عجب و پندار نهد ، و چهرهٔ دعوی ابداع و انشا را بدست مشاطه طباع کسان موشح و موشی سازد ـ نه طریق این فقیر که سباح تیار بحار فیض الهی است ، و سیاح دیار کرم نامتناهی الخ ـ ( دیباچه ، صفحات ۳ ، ۱ ـ ۱ )

p10

محمود گاواں کے مکتوبات پر جب مجموعی طور سے نظر ڈالی جاتی ہے۔ تو اس کے اسلوب بیان میں ادبی مٹھاس کی بجائے علمیت زیادہ محسوس ھوتی ھے۔ لیکن اس کی قادر الکلامی میں کوئی شک نہیں ۔ اس کی ذہنی قوت ، سیاسی استعداد اور وسیع علم و دانش ایسے اوصاف تھے جن کی وجہ سے بڑے بڑے بادشاہ اپنے دربار میں محمود گاواں کو رکھنا چا ھتے تھے ۔ لیکن طبیعت میں کچھ ایسی ضد اور خود پرستی (جذبۂ انانیت) تھا جس کی وجہ سے نہ گیلان کے بادشاہ سے نبھی اور وطن مالوف کو خیر باد کہنا پڑا ۔ نہ بہمنی دربار میں اطمینان خاطر رها اور آخر اپنی جان گنوادی ۔ بڑے بھائی ، بھتیجوں اور رشتہ داروں سے بھی غالباً اس بری خصلت کی بدولت ان بن ھوئی ، یہاں تک بیٹوں سے بھی شکر رنجی رھی ۱ ۔ چنانچہ علی کو جیسے بہمنی دربار سے ملك التجار کا خطاب مل گیا تھا

p11

محمود گاداں نے جو خط اپنے بھتیجے برهان الدین ابراهیم کے نام لکھا ھے اس میں بہار کے رنگ کو ملاحظہ فرمائیے ، تمهید پیش ھے ۔ تا شهر یار نامیه در مصاف بهار از پیکان غنچه و سنان خار و ناچخ بنفشه و کوپال گلنار و خود نیلوفر و سپر گل و خنجر گل چنبه و جعبه سنبل آلات پیکار و ادوات کارزار مرتب می دارد - و دست چنار بدعای فتحش سوی آسمان کشاده است ، و صفوف اشجار در موافقت جوئبار باقدام خدمت ایستاده ، همواره ازهار آمال بر شجر بال آن فرزند رشد مثال ، مجد ما ل منتج اثمار حصول مراد و موجب ترویح مشام فواد باد الخ (مکتوب ۸۷ - صفحه ۲۶۴) اس تمهید میں بہار کی لوازمات کے ساتھ اسلحہ جنگ کو بھی وابستہ کر دیا گیا ھے تاکہ عبارت میں رزمیہ رنگ بھی رھے ۔ ہر مکتوب کے شروع میں اس کے مضمون کے لحاظ سے ایک تمهید ھے ۔ جس میں ذھن کے مرصع کار نے قرآن و احادیث ، الهیات و فلسفه ، نجوم و ریاضیات ، شعر و سخن ، معانی و بیان ، جغرافیه و تاریخ ، حیوانیات و طبیعیات مناظر قدرت اور واقعات زندگی کے جواھر پاروں کو ایک دلکش انداز میں ترتیب دیا ھے ۔ یہ رنگ محمود گاواں کا مخصوص رنگ نہیں ھے۔ بیسیوں انشا کی کتابیں اسی مرصع کاری سے بھری پڑی ہیں ۔ اور انشاء کو چھوڑ کر تاریخ اور قصص کی کتابیں بھی دیکھیں تو یہ آراستہ تمہیدیں ھم کو ھر باب کے شروع میں نظر آتی ھیں۔ جہاں علم و فضل کی نمائش زیادہ ھے وہاں عبارتیں اور زیادہ مُعَلَّق هیں ـ لیکن جن مصنفین کا ادبی ذوق شستہ ھے انہوں نے معانی کو نمایاں رکھنے کی کوشش کی ھے اور عبارت کو گورکھ دھندا نہیں بنایا ۔ 'ریاض الانشا' میں بھی علم و فضل کی آرائش کے اندر مطالب کے چہرے صاف اور روشن ھیں ۔ زبان میں عربی آمیزش بہت زیادہ ھے ۔ لیکن اسلوب بیان اور انداز خیال خالص عجمی ھے ۔ اس زمانہ کا خود عربی ادب اس عجمی مرصع کاری کا شکار بن گیا تھا ، اور فرات اور دجلہ کے کنارے اپنی سادگی اور ابتدائی زور کھو بیٹھا تھا ۔ محمود گاواں نے 'ریاض الانشا' کے دیباچہ میں اپنی تحریر کی مقبولیت کا ذکر کیا ھے۔ اور یہ بھی لکھا ھے کہ میرے مضامین خود میری ذهنی کاوش اور ادبی ذوق کے پھل ہیں اور کسی اور مصنف کے علمی مال و متاع کی چوری نہیں ۔ محمود گاواں نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ھے ۔ کے رہنے والوں کی شکایت سے چونکہ بادشاہ خواجہ جہاں کی طرف سے بد دل ہوگیا تھا ، اس لئے جو جعلی تحریر خواجہ جہاں کی نمک حرامی کے بارے میں اس کے دشمنوں نے بادشاہ کے ملاحظہ میں پیش کی اس کو بادشاہ نے صحیح سمجھا اور وزیر کے قتل کا مصمم ارادہ کرلیا ۔ سخاوی نے جو محمود گاوان کے قتل کے اسباب بیان کئے ہیں ان میں مزید وضاحت موجود ھے کہ محمود گاوان بادشاہ کے کام میں دخل در معقول کرتا تھا اور اس کے اختیارات کو محدود کردیا تھا، اس لئے بادشاہ کو خواجہ سے نفرت ہوگئی تھی ۱۔

p12

سخاوی نے جعلی مکتوب کا ذکر نہیں کیا ۔ لیکن بادشاہ کے بر خلاف بغاوت کے جھوٹے الزام او ر امراء کی سازش کا ذکر کیا ھے۔ فرشتہ او ر علی طباطبا دونو جعلی مکتوب کا ذکر کرتے ہیں، جو نرسنگ رائے کے نام لکھا گیا تھا۔ سخاوی محمود گاواں کا ھم عصر تھا اور علی طبا طبا اور فرشتہ سو سوا سو برس کے بعد کے مؤرخ ۔ چونکہ نرسنگ رائے سے سازش کا جھوٹا الزام جعلی مکتوب میں درج تھا، اور بادشاہ کے برخلاف بغاوت کا الزام بھی نرسنگ رائے کی سرکوبی کی مہم کی ضمن میں بیان کیا گیا ھے ، اس لئے بغاوت کی زبانی جھوٹی خبر کا سو سوا سو برس میں جعلی مکتوب بن جا نا کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ یہ امر البتہ علی طبا طبا اور سخاوی دونو کے بیانات سے واضح ھے ، کہ بادشاہ خواجہ سے اس کی تمکنت کی وجہ سے پہلے ہی سے ناراض تھا ، اور جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ھوں یہ تمکنت اس کے مکتوبات سے بھی جو خواجہ کی زندگی کے واقعات سے متعلق ہیں عیاں ھے ۔ اس لئے قتل کے اسباب بیان کرنے میں جہاں دربار کے امراء کی سازش بیان کرنی ضروری ھے وھاں خواجہ کی تمکنت کا اظہار بھی لازمی ھے ۔ کیونکہ اسی خصلت نے سلطان علاءالدین گیلانی کو خواجہ سے برگشتہ خاطر کیا اور اسی خصلت نے محمد شاہ بہمنی کو ایسا بد دل کیا کہ آخر اس نے خواجہ کو ختم کردیا ۔

p13

مکتوبات سے خواجہ کے کردار کے متعلق جو اور کمزوریاں نمایاں ھوتی ھیں ان میں درگزر اور معاف نہ کرنے کا عیب بھی شامل ھے ۔ ایک مکتوب میں جو بڑے بھائی ( شہاب الدین احمد ؟) کے خط کے جواب میں ھے ، لکھا ھے کہ افسوس صد افسوس آپ تاج الدین بن نجم الدین کے ذمہ جو میرا مال واجب الادا

p14

گستاخی اور بد زبانی پر کوسا ھے ۔ ریاض الانشاء میں بیسیوں ایسے مکتوب ھیں جن سے محمود گاواں کی تمکنت مزاج ٹپکتی ھے۔ فرشتہ نے اپنی تاریخ میں محمود گاواں کی سیرت کو بہت سراہا ھے اور قتل کا سارا الزام محمد شاہ بہمنی کے سر تھوپ دیا ھے۔ اور واقعات کے بیان کرنے میں مبالغہ آمیز روایات پر انحصار کیا ھے ۱۔ محمود گاوان نے جو خط کوکن کی مہم سے قاضی شرف الدین کو جو صدر جہاں کے لقب سے ممتاز تھے لکھے ھیں ان سے ظاہر ھوتا ھے کہ دربار میں بادشاہ کو بہکانے کے لئے بہت سے حاسد اور دشمن موجود تھے ۔ ا یک مکتوب میں تو یہاں تک لکھا ھے سوائے ہمایوں بادشاہ (بہمنی) مرحوم کے میری گردن کسی کے احسان سے دبی ھوئی نہیں ھے ۲ ۔ جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ھے کہ محمود گاوان کچھ محمد شاہ کے برتاؤ سے بھی خوش نہ تھا ۔ خطوں میں اس قسم کے بیباکانہ جملوں سے محمود گاواں کی تمکنت صاف ظاہر ھے ۔ کیا بادشاہ کو محمود گاواں کے اس کبر و غرور کی خبر نہ پہنچائی جاتی ھوگی ۔ بادشاہ کے محمود گاواں سے ناراض ھونے کا پتہ کونڈویر کی مہم سے بھی چلتا ھے جس کو علی طباطبا نے برھان مآثر (صفحه ۱۲۶) میں تفصیل سے بیان کیا ھے ۔ اجمال یہ ھے کہ جب بادشاہ نے قلعہ کا محاصرہ کیا تو اھل قلعہ نے پناہ طلب کی اور فریاد پیش کی کہ دربار میں ایسے کار فرما ؤں کے ھاتھ میں مملکت کا انتظام ھے جنہوں نے اپنی فاسد اغراض کے مدّ نظر ھم پر نالایق حکّام کو مسلّط کردیا ھے جو نہایت ظالم اور اور سفّاک ھیں ، اور ھم نے آخر تنگ آکر اطاعت گزاری کو ترک کر دیا ھے۔ کیونکہ جو عرضیاں ھم نے روانہ کیں وہ آپ کے ملاحظہ میں پیش نہیں کی گئیں ۔ بادشاہ نے حالات سن کر مظلوموں کے گناھوں کو معاف کیا اور قلعہ کو مع مضافات ملک حسن (مابین شاہی) اور الغ اعظم نظام الملک بحری کے سپرد کردیا ۔ اور خواجہ جہان ( محمود گاواں) کی طرف سے برگشتہ خاطر ھوا او ر یہ ٹھان لی کہ خواجہ کو ختم کردے۔ علی طبا طبا نے آگے چل کر جہاں محمود گاواں کے قتل کی سازش کا ذکر کیا ھے وہاں کونڈویر کے واقعہ کو پھر دھرایا ھے اور لکھا ھے کہ کونڈویر

p15

میں متعدد خطوط ہیں جو شاہ گیلان ، شاہزادگی گیلان ، وزیر گیلان اور دیگر عمائد گیلان کے نام ہیں جن میں عبد اللہ کی کمزوریوں پر چشم پوشی اور اس کے اصلاح حال کی جانب توجہ کی استدعا کی گئی ہے ۔ اولاد کے معاملہ میں محمود گاوان خوش نصیب نہ تھا ۔ چھوٹا بیٹا الغ خاں بہت کند ذھن اور بدشوق تھا ۔ متعدد مکتوب ایسے ہیں جن میں تحصیل علم کی طرف شوق دلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایک خط میں لکھا ہے ۔ کہ پندرہ برس کے لڑکے کوتوقطبی کی شرح شمسیہ اور کافیہ کا حاشیہ پڑھنا چاہئے ، نہ یہ کہ وہ نوشت و خواند کا بھی سلیقہ نہ رکھتا ہو ۔ ایک مکتوب میں عاق کردینے کا بھی اشارہ کیا ہے ۱۔ بڑے بیٹے علی کی گستاخیوں سے بھی ناراض تھا ۔ خواجہ کے اثر سے بادشاہ نے اس کو ملک التجار کا جلیل القدر خطاب دیدیا تھا ۔ ایک مکتوب میں خواجہ نے علی کے تکبر اور غرور کی مذمت کی ہے اور لکھا ہے افسوس ہے تم نے اپنے بوڑھے باپ کی قدر و منزلت نہ کی ، اور اس کی نصیحت پر عمل نہ کیا، اس کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا نہوگا ۲۔

p16

مکتوبات میں محمود گاوان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کے لئے کافی مسالہ موجود ہے ۔ کہیں بیٹے کو اس کی ماں ( یعنی اپنی بیوی) کے مرنے پر صبر کی تلقین کی ہے ۔ کہیں کسی اور عزیز کو اپنے چچا زاد بھائی فخرالدین احمد المخاطب بہ حبنی الملک کی موت پر تشفی دلائی ہے ۔ کہیں کسی دوست کو لکھا ہے کہ گھوڑے، اور سامان جو تم نے بھیجا تھا اس کی قیمت تمہارے آدمی کے ھمدست جو خط لایا ہے روانہ کر رہا ہوں ۔

p17

علماء کے ساتھ خواجہ کا سلوک نہایت محبت آمیز اور عقیدتمندانہ تھا ۔ تحصیل علم میں مختلف اسلامی ممالک کا سفر کیا تھا ۔ اس لئے اپنے ھم عصر علماء سے یا تو ذاتی واقفیت تھی یا رسل و رسائل کے ذریعہ سے محبت اور یگانگت پیدا کرلی تھی ۔ چنانچہ مشہور مورخ سخاوی جو خواجہ کا ھم عصر تھا لکھتا ہے کہ محمود گاوان نے قاہرہ میں شیخ بخاری (محمد بن محمد بن محمود الشمس الحنفی) کے علم و فضل سے استفادہ کیا اور اسی طرح زین زرکشی سے صحیح مسلم کا درس لیا ، اور بعض شام کے علماء سے بھی جو اپنے فن کے امام سمجھے جاتے تھے

p18

ھے اس کو معاف کرنے کی سفارش کرتے ھیں حالانکہ وہ نہایت ناشکرگزار اور بد سیرت ھے ۔ اسی خط میں شیخ علی پر بہت لعن طعن کی ھے جس کو خواجہ کے بھائی نے لاھیجان کی رسالت پر متعیّن کردیا تھا ۔ شیخ علی خواجہ ھی کے بڑھائے ھوئے لوگوں میں سے تھا ، لیکن بعد میں سلطان علاءالدین حاکم گیلان سے خواجہ کی تمکنت اور حکومت پسندی کی شکایت کرکے سلطان کو خواجہ سے ایسا بدظن کیا کہ اس کو مال و متاع اور اولاد کو چھوڑ کر گیلان سے بھاگنا پڑا ۔ اس مکتوب میں خواجہ نے شیخ علی کو بہت برا بھلا کہا ھے ، ملاحظہ ھو۔

p19

یقین دانند کہ اساس صفات آن سگ مہات بہ نجاست ذات چنان ملوّث است کہ بآب سیل باران بہاران و تمام بحار عالم زمان و مکان پاک نمی شود ، کہ ما بالذات لا يزول بما بالعرض ۔ بلکہ اگر ذرات جسد ناپا کش از نکہا ے نکبت و صرصر قہر حضرت عزّت در ھواے فنا رود ، از روایح منتنۂ شیم ذمیمہ و عظام رمیمہ اش مشام سکان کرۂ زمین و قبۂ آسمان برین مگذّر گردد ۔ الخ

p20

مکتوب ۲۲ ، صفحہ ۱۰۸

p21

خط میں آگے چل کر اس سے بھی زیادہ سب و شتم ھے ۔ محمود گاواں کی فیّاضی اور داد و دھش کی سب مورّخین نے تعریف کی ھے۔ خصوصاً علما کے ساتھ خواجہ کے سلوک نے اس کی شہرت کو چار دانگ عالم میں پھیلا دیا ۔ لیکن لین دین کے معاملہ میں وہ سخت تھا ۔ چنانچہ ایک مکتوب میں جو بیدر سے ذی قعد کے آخر میں کسی وزیر کو لکھا ھے یہ درج ھے ! ’’سید حسن گیلانی اور شہاب الدین گیلانی کو بطور وکیل مقرّر کر کے اس لئے بھیجا جا رھا ھے کہ جو مال حسن تمجانی اور فقیہ محمد گیلانی کے تصرّف میں تھا اس کو ان دونو وکیلوں کے حوالہ کر دیا جائے ۔ اور اگر ان میں سے ایک فوت ھو جائے تو اور رفیق جو ساتھ ھیں ان کے سامنے دوسرے وکیل کو سپرد کردیا جائے ۔،،

p22

خواجہ کو اپنے وطن میں خاندانی وقار کو قائم رکھنے کی بڑی تمناّ تھی ۔ لیکن اس کے بیٹے عبد اللہ کی ناھنجاری سے یہ تمناّ پوری نہوسکی ۔ ریاض الانشا

p23

حالانکہ خواجہ کے بڑے بھائی کچھ عرصہ پہلے خواجہ سے ناراض ہوگئے تھے ، لیکن شاہ اویس گنجی کی مدد کےلئے خواجہ نے بھائی کو لکھنے سے دریغ نہ کیا ۱۔ اسی طرح سید اشرف کی مدد کے لئے جو مشہور نحوی سید شریف جرجانی کی اولاد میں سے تھے پھر اپنے بھائی کو لکھا ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں اسلامی بادشاہوں کے دربار میں علما کی بڑی قدر و منزلت تھی ۔ سلطان ابوسعید گورگاں اور سلطان محمد مرادبک ( شاہ روم) علم و فضل کے خاص سرپرست تھے ۔ چنانچہ مکتوبات سے معلوم ہوتا ھے کہ محمود گاواں کی ان بادشاہوں سے راست مراسلت تھی ، اور قاصد اور پیام آتےجاتے رہتے تھے ۲۔ محمود گاواں نے بحیثیت وزیر بہمنی بادشاہوں کی جانب سے سلطان عراق ، سلطان روم اورہندوستان کے بادشاہوں میں سلاطین گجرات ، مالوہ اور جونپور کو خط لکھے ہیں ۔ جن کی تاریخ کے طالب علم کے لئے بڑی اہمیت ھے ۳ ۔ بعض مکتوبات میں فرمانروائی اور حکومت کے سیاسی اصولوں کی تشریح کی گئی ھے۔ یہ خود خواجہ کےسیاسی نظریہ اور اس زمانہ کی عام اسلامی سیاست پر روشنی ڈالتے ہیں ۴ ۔ ایک مکتوب میں یہ بھی لکھا گیا ھے کہ مالوہ کی جانب فوج کشی کس طرف سے کی جائے ۵ ۔ اور دکن کی تاریخ اور اسلامی تہذیب اور ثقافت کے لئے تو ہر مکتوب میں کچھ نہ کچھ مسالہ موجود ھے ۔ چونکہ مکتوبات کی عبارت بہت مرصع ھے اور زبان بھی عربی آمیزش کی وجہ سے سہل نہیں ۔ اس لئے مکتوبات کا مختصر خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ھے ، تاکہ طالب علم کو وہ باتیں جو تاریخ کی کتابوں میں درج نہیں ھیں معلوم ھو جائیں ۔ اور اگر درج بھی ھیں تو ان کی توثیق ھو جائے ۔ عام طالب علم کے علاوہ تحقیق کرنے والے کے لئے بھی یہ خلاصہ مفید ہوگا ، کیونکہ ساری کتاب پڑھنے کی بجائے یہ اس کو ان مکتوبات کے مطالعہ کی طرف رہنمائی کریگا جن میں سے اس کو مطلوب معلومات حاصل کرنی ھیں ۔

p24

ملاقات کی ۔ ریاض الانشا میں جو مکتوبات علماے کبار کے نام ہیں ، ان میں سے بعض میں خواجہ نے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ھے اور دعا چاھی ھے ان بزرگوں میں خواجہ خواجگان عبید اللہ ، شیخ بایزید خلخالی ، امام صدر الدین رواسی اور مولینا جامی خاص طور سے قابل ذکر ھیں ۱ ۔ مولینا جامی کو تو ھندوستان آنے کی کئی بار دعوت دی ، اور جب ذرا ناامیدی ھوگئی تو یہ شعر لکھا ۔

p25

لن ترانی میرسد از طور موسیٰ را جواب این همه فریاد مشتاقان ز استغنای اوست

p26

خواجہ کو علما اور صالحین سے حقیقی انس تھا ۔ اور خود اس کے فضل و کمال اور داد و دھش نے جس کا ذکر ہم عصر مورخین نے کیا ھے ، اس کو اقصاے عالم میں مشہور کردیا ۔ شہرت کی وجہ خاندانی اعزاز اور یعنی وزارت کا جلیل القدر عہدہ بھی تھا ۔ مکتوبات سے معلوم ھوتا ھے کہ بعض جید علما کو خواجہ نے اپنے مدرسہ کے لئے جس کو بیدر میں قایم کیا تھا دکن بلایا تھا۔ ان میں جلال الدین دوانی، اور ابو بکر طہرانی کے نام قابل ذکر ھیں ۔ جلال الدین دوانی نے جب شیخ شہاب الدین سہروردی کی مشہور کتاب ھیاکل النور کی شرح الموسوم به شواكل الحور لکھی تو شرح کو محمود گاوان کے نام سے معنون کیا ۲۔ اسی طرح جب مولینا جامی نے فصوص الحکم کی شرح لکھی تو اس کا ایک نسخہ ھدیتاً خواجہ کے پاس بھیجا ۳ ۔ مراسلت سے بھی جو مولینا جامی اور خواجہ کے درمیان ھوتی تھی اور جس کے بعض مکتوبات محفوظ ھیں، علمی دنیا میں خواجہ کی عزت و وقار کا پتہ چلتا ھے ۴۔ صالحین اور بزرگ زادوں کی مدد خواہ وہ کسی مملکت میں ھوں خواجہ بڑے حوصلہ سے کرتا تھا۔ چنانچہ ایک مکتوب میں اپنے بڑے بھائی ( شہاب الدین ) کی توجہ شاہ اویس گنجی کی مصیبتوں پر دلائی ھے جو ظالموں کے ھاتھوں سے ان کو پہنچ رہی تھیں ۔

p27

کے لئے ملاحظه هو حبيب السير، جلد سوم، جزء سوم، صفحات ۴ ۲۸-۳۲ سلطان ابوسعید گورگاں کے نام ھے ۔ بادشاہ کی معدلت گستری اور جہانبانی کی تعریف کی ھے، اور فتح و نصرت کے لئے دعا دی ھے ۔ اور آخر میں التجا کی ھے کہ اس بندۂ اخلاص ،کو اپنے خاص خادموں میں تصور فرمائیں، اور سعادت نشان فرمانوں سے عزت بخشتے رہیں ۔ (سلطان ابوسعید گورگاں کے لئے ملاحظه هو حبيب السير ، جلد سوم ، جزء سوم ، صفحات ۹۶ - ۱۷۶) - ۵ ۳۳-۳۶ سلطان محمد ( مراد بک) بادشاه روم کے نام ھے ۔ سلطان کی شوکت اور قوت اور جہاں کشائی اور ملک داری کی تعریف کی ھے اور دست بوسی (تقبیل انامل بحر نایل) کی آرزو ظاهر کی ھے۔ اور آخر میں اقبال و یاوری اور طول عمر کے لئے دعا دی ھے ۔ (سلطان محمد مراد بک کے لئے، ملاحظه هو انسائیکلو پیڈیا اوف اسلام ، جلد دوم ، صفحات ۲۹ - ۷۳۸) ۔ ۶ ۳۷-۴۳ ( وسط رجب) سلطان علاء الدین شاہ گیلان کے نام ھے ۔ محمود گاواں نے ایک مکتوب میں جو ریاض الانشا میں شامل ھے ، سلطان کو یہ لکھا تھا کہ اگر میری طرف سے اب کوئی شبہ باقی نہیں رھا ھے تو میری اولاد کو جن میں عبد الله بھی شامل ھے میرے پاس بھیجدیا جائے ، بعد میں اس کو خدمت گزاری کے لئے بھیجدیا جائیگا ۔ سلطان نے شاید اس درخواست کو منظور کرلیا اور خواجه کے بیٹوں کو دکن جانے کی اجازت دیدی ۔ موجوده مکتوب میں محمود گاواں نے شاہان گیلان کی نسبت اپنے اخلاص اور عقیدت اور قدیم خاندانی تعلق کا ذکر کیا ھے ۔ اور استدعا کی ھے کہ عبد الله کو اپنے خاص ملازمین کے زمرہ میں داخل کرے اور اس کا شمار ، جمله زید و عمر و خالد و بکر ، میں نہو ۔ مکتوب کا اسلوب نہایت لجاجت آمیز ھے ۔ خود مکتوب صفحہ خلاصہ

p28

۱ ۱۴-۱۹ (اوایل شعبان) شیخ صدرالدین رواسی کے نام ھے ۔ خواجہ نے خود کو معتقد مخلص لکھا ھے، اور شیخ کو نہایت عجز سے اس ملک میں بلایا ھے، اور بیان کیا ھے کہ جو کمزوریاں اور فاسد خیالات دل میں اثر پذیر ہیں ان کا ازالہ مکتوبات کے مطالعہ سے نہیں ہوتا ۔ یہ بھی لکھا ھے کہ اس ملک میں اور بہت سے مستعد طالبان فیض ہیں جو قدم بوسی کے آرزو مند ہیں ۔ شیخ صدر الدین رواسی (وفات ۵۸۷۱) کے لئے ملاحظہ هو حبیب السیر، جلد سوم ، جزء سوم، صفحہ ۱۹۷-

p29

۲ ۱۹-۲۲ مولینا جامی کے نام ھے۔ اپنے کو خواجہ نے ' معتقد بیجان مستمند، لکھا ھے اور والہانہ محبت اور کمال احترام و اعظم کے اظہار کے بعد مولینا کو دکن آنے کی دعوت دی ھے ، اور یہ تمنا ظاهر کی ھے ۔ جمال وصال صوری . . . قبل از غروب آفتاب روز عمر بمغرب فنا در آئینۂ حیات دیده آید - (مولینا جامی کے لئے ملاحظه هو تاریخ ادبیات ایران، مؤلفہ پروفیسر براؤن ، اور تذکرۃ الشعراً دولت شاہ مصححہ براؤن ، صفحه ۴۸۳) -

p30

۳ ۲۳-۲۷ خواجہ عبید اللہ کے نام ھے جو سلسلۂ نقشبندیہ کے ممتاز رہنما تھے ۔ مولینا جامی کو خواجہ عبید اللہ سے بہت عقیدت تھی ۔ محمود گاواں نے بھی اس مکتوب میں اپنے کو ' مرید معتقد ، لکھا ھے ، اور بیان کیا ھے کہ جو نور اور روشنی مطلوب ھے وہ اکابر زماں کی تصنیفات کی سیاهی کے سرمے سے اور اصطلاحات کی شمع سے حاصل نہیں ہوتی ۔ اور اس ملک میں کوئی ایسا رہنما نہیں جس کی باطنی شعاع سے دل کا اندھیرا دور هو جائے ۔ اس طالب زار ، مہجور پر نظر کرم رکھیں، اور اپنے رشحات قلم سے میرے دل کی حرارت اور پس ماندگی دور فرمائیں ۔ خواجہ عبید الله (وفات ۵۸۹۶)

p31

کرنے کا ذکر کیا ھے ، اور امید ظاهر کی ھے که بادشاه کا فضل و کرم اس کے شامل حال رھیگا ۔

p32

( اوایل محرم ، محمد آباد بیدر) کسی وزیر کے نام ھے ۴۹-۵۰ ۸ شوق ملاقات ظاهر کیا ھے ، اور پھر حامل رقعہ کی سفارش کی ھے ، که ایسے ادیب اور حکیم کی مدد کرنا موجب حسنات هوگا۔

p33

اپنے بڑے بھائی ( شهاب الدین ؟ ) کو جو گیلان میں ۵۱-۵۵ ۹ ھیں ، مکہ معظّمہ سے لکھا ھے ۔ تعلقات دنیا سے کناره کشی اور تلاش حق اور هدایت مرشد شفیق، کا ذکر کیا ھے ۔ بھائی کو بھی تحریک کی ھے کہ اس تاریک ماحول (گیلان ) اور فاسد اور منافق لوگوں کی صحبت سے نکل آئے تو ' محض صلاح و عين نجاح خواهد بود ، ۔

p34

(ماه محرم ، دارالاسلام شام ، دمشق؟) یہ خط بھائی کو ۵۶-۶۲ ۱۰ شام سے لکھا ھے ۱۔ اور مضمون سے معلوم ھوتا ھے کہ اس وقت بھائی ( شهاب الدین ) وزارت کے عہدے پر فایز ھو گئے تھے، اور دربار میں جو حریف اور دشمن تھے ان پر غالب آگئے تھے ۔ وزارت کے فرائض کی تصریح کی ھے اور خواجہ اویس گنجی کے احترام اور اعظام کے متعلق سفارش کی ھے جنہیں بعض شریر لوگوں نے ستا رکھا ھے ۔ اور یہ بھی لکھا ھے کہ آپ کا خط آجانے سے میرا رنج وغم رفع ھو گیا ، جو اس اطلاع سے پیدا ھو گیا تھا کہ مفسدوں نے اپنی افترا پردازی سے آپ کے دل میں میری طرف سے بد گمانی پیدا کردی ھے ۔

p35

( ربیع الاول ، محمد آباد بیدر یہ مکتوب مولینا شرف الدین ۶۳-۶۸ ۱۱ علی یزدی کے خط کے جواب میں ھے جنہوں نے سلطان محمد والی گیلان و دیلم کے دل میں جو شکوک خواجہ اور

p36

کو دعا گوے کمینه ، اور کم ترین مخلصان ، لکھا ھے اور خود مکتوب کو ضراعت نامه ، بیان کیا ھے ۔

p37

عبد الرزاق سمر قندی هندوستان کی سفارت کے بعد گیلان کی سفارت پر بھیجا گیا تھا وہ تقریباً محمود گاوان کا ہم عصر تھا ۔ مطلع السعدین سے گیلان کے حالات پر روشنی پڑتی ھے ۔

p38

قطب الدین محمود نے اپنی کتاب درة التاج میں امیرہ دوباج کا جو مغربی گیلان کے حکمران تھے شجرۂ نسب دیا ھے ۔ کتب خانه آصفیه میں اس کتاب کا نهایت عمده نسخه موجود ھے۔ میں نے شجرۂ نسب کو پڑھا جو حضرت نوح سے گزر کر حضرت آدم تک پہنچتا ھے ۔ اور محض روایتی اور غیر محققانه ھے ۔ مکتوب (۱۳۸) میں جو گیلان کے بادشاہوں کا نسبی تعلق بیان کیا گیا ھے وہ زیادہ صحیح معلوم هوتا ھے ۔ ملاحظه فرمائیے درة التاج ، قلمی نسخه متحف برطانیہ نشان ۷۶۹۴ اور مطلع السعدين عبدالرزاق سمر قندی ، قلمی نسخه متحف برطانیه نشان ۱۲۹۱ -

p39

( محمد آباد ، اوایل شعبان) یه مکتوب بھی سلطان علاء الدین شاه گیلان کے نام ھے ، اور پہلے مکتوب کے بعد لکھا گیا ھے ۔ معلوم به هوتا ھے کہ جو رسل و رسائل گیلان سے خواجہ کے پاس آتے تھے ان سے بعض اوقات بادشاہ کی طرف سے مطمئن ہو جاتا تھا اور بعض اوقات پھر شک میں پڑ جاتا تھا ۔ پہلا خط جو وسط رجب میں لکھا تھا اس وقت محمود گاوان شاید عبد الله کو روانه نه کرسکا ، اس لئے اس کی روانگی کے متعلق یہ دوسرا مکتوب لکھا ۔ اس مکتوب میں خواجہ نے شاهان گیلان کے احسانات کا اعتراف کیا ھے ، جو خود اس پر اور اس کے آباء و اجداد پر کئے گئے ھیں ۔ پھر اپنے حرمان و حسرت کا اظہار کیا ھے کہ کہیں ایسا نہو کہ حصول لقا، سے پہلے داعی اجل کو لبیک کہنا پڑے ۔ ایسے حالات کے مدّ نظر اپنے بیٹے عبدالله کے روانه گجرات سے بطور قاصد آیا تھا ۔ مکتوب میں درج ھے، اتفاق ویگانگت کی اس کے مواجہ میں توثیق کی گئی اور عہد نامہ پر کلام پاک کی بھی شہادت پیش کردی گئی۔ افواج کو فتح آباد ( دولت آباد ؟ ) اور آسیر کی جانب محمود خلجی ( شاہ مالوہ) کے قلع قمع کے لئے بھیجدیا گیا ھے ۔ اگر گجرات کی فوج بھی آسیر کی سرحد پر پہنچ جائے تو دشمن کو شکست فاش ہوجائیگی اور ہماری سلطنتوں کا اتحاد سب کو معلوم هو جائیگا ۔ دشمن کو تباہ کرنے کے لئے جو تدابیر اختیار کی جانے والی هیں ، ان کی تفصیلی کیفیت خان اعظم تیمور خاں کی زبانی معلوم ھوگی جن کو بطور ایلچی بھیجا جا رھا ھے ۔

p40

۱۳ ۷۶-۷۰ ( عشر ربیع الثانی) یہ مکتوب سلطان محمد گیلانی کو کوکن کی مہم کے دوران میں روانہ کیا گیا ھے ۔ لکھا ھے کہ ربیع الاول کے دوسرے عشرہ میں بہمنی فوجوں نے ماچال کے قلعہ کا محاصرہ شروع کیا ۔ اور تلوار ، تیر ا و ر تفنگ کے زور سے قلعہ کے کنگوروں اور برجوں کو منہدم اور اهل قلعہ کو گرفتار کرلیا ۔ اس قلعہ کا انتظام کرنے کے بعد ہماری فوجیں کھیللنا کے قلعہ کی تسخیر کے لئے بڑھیں ۔ اور محاصرہ کرنے کے بعد تیروں کی ایسی بارش کی اور تیغ زنی کے ایسے جوهر دکھائے کہ اھل قلعہ نے عاجز آکر قلعہ کو حوالہ کردیا، اور تمام مال و متاع سپرد کر کے جان کی امان چاهی ۔ بعد ازاں ہماری فوجوں نے بلموارہ کے قلعہ کا رخ کیا اور آخر اس کو بھی مسخر کرلیا ۔

p41

ان قلعوں کی فتح سے خواجہ کو بے حد خوشی ھوئی هوگی ۔ اور اپنے اس کارنامہ کا ذکر خواجہ نے سلطان گیلان کے خط میں اس لئے کیا ھے کہ وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھتا تھا ۔ ا ن قلعوں کی فتح کا ذکر ا و ر خواجہ کے خاندان کے افراد کی جانب سے پیدا ہو گئے تھے ان کو رفع کرنے کی کوشش کی تھی، اور خواجہ کو لکھا تھا کہ گیلان کے ایلچی تمہارے بھتیجے شمس الدین شیخ محمد کو لینے آئے تھے لیکن تمہاری چونکہ مرضی نہ تھی اس لئے شیخ محمد کو گیلان نہ بھیجا گیا اور ایلچیوں کو واپس کردیا ۔ خواجہ نے مولینا یزدی کی عنایت کا شکریہ ادا کیا ھے ، اور لکھا ھے کہ سلطان محمد کی ملازمت اگرچہ ہما را خاندانی ورثہ ھے ، لیکن اس وقت چونکہ حکومت حاجی محمد سپہ سالار اور شیخ علی دبیر اور وزیر کے اختیار میں ھے ، اور سلطان ان کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنا ہوا ھے، اس لئے خود مجھے اس سر زمین سے باہر نکلنا پڑا ۔ مکتوب میں خواجہ نے حاجی محمد اور شیخ علی پر اپنے احسانات کا بھی ذکر کیا ھے، اور یہ بھی لکھا ھے کہ میرے بھائی ( شہاب الدین ) نے ان کے مکر کو ابتدا میں نہ سمجھا لیکن آخر میں جب حقیقت معلوم ہوئی تو وہ مکہ معظمہ چلے گئے، اور اپنے بیٹے خواجہ شمس الدین شیخ محمد کو وطن میں چھوڑ گئے ۔ خواجہ شمس الدین کو بھی جب ان دونو شریروں نے تنگ کرنا شروع کیا اور افترا اور بہتان سے سلطان کو شمس الدین کی طرف سے بدظن کردیا تو وہ بھی وطن سے بھاگ نکلے۔ مکتوب کے آخر میں خواجہ نے مولینا یزدی کی عنایت کا شکریہ ادا کیا ھے کہ انہوں نے سلطان گیلان اور دربار کے امراء کی بدگمانی کو دلائل اور حقیقی واقعات کے انکشاف سے رفع کر دیا ھے ۔ ( شرف الدین علی یزدی ( وفات ۸۵۸ ) کے حالات کے لئے ملاحظه هو حبيب السير، بلد سوم ، جزء سوم ، صفحه ۱۴۸ )

p42

یه مکتوب محمد شاہ بہمنی کی طرف سے خواجہ نے سلطان گجرات ( محمود شاہ ) کو لکھا ھے ۔ خان اعظم صفدر خان عجز و انکساری اور قدمبوسی کی تمنا کا اظہار کر کے نظام الملک کے قریب پہنچ گیا۔ اور اپنا زہر میں بجھا ہوا خنجر نظام الملک کے پہلو میں اس طرح بھونکا کہ ایک گھنٹے میں وہ ختم ہو گیا ۔ نظام الملک کے کردار پر بھی خواجہ نے اس مکتوب میں روشنی ڈالی ہے ۔ پھر محمود خلجی کے کھیر لہ کی جانب بڑھنے کا ذکر ہے ۔ اور مقابلہ کے لئے نصیر خان فاروقی کے علاقہ سے اپنی روانگی کا بیان ہے ۔ مکتوب کے آخر میں محمود خلجی کی بیماری اور بہمنی فوجوں کی فتح سے اس کی سراسیمگی اور پہاڑی راستہ سے بھاگ جانے کا حال بھی درج ہے ۔ اس واقعہ کا ذکر برھان مآثر ( صفحه ۱۰۸ - طبع حیدرآباد مجلس مخطوطات فارسیه ) میں بھی موجود ھے اور فرشتہ میں بھی ( جلد دوم ترجمه برگزا صفحات ۸۰ - ۴۷۹) درج ھے ۔ لیکن ان دونو مورخین نے محمود گاواں کے محمود خلجی کے مقابلہ میں روانہ ھونے کا اور محمود خلجی کے فرار ھونے کا ذکر نہیں کیا ھے ۔

p43

اوائل صفر ، محمد آباد بیدر) بڑے بھائی (شہاب الدین؟

p44

کے خط کے جواب میں ھے، جنھوں نے خواجہ کی سیرت اور علمی قابلیت پر بدگمانی ظاہر کی تھی ۔ خواجہ نے بھائی کو لکھا ہے کہ آپ تو میرے اخلاق ( حمیدہ و ذمیمه ) کو سفر اور حضر دونو میں اچھی طرح پرکھ چکے ھیں، اور بادشاہوں اور اکابر کی صحبت میں بھی میری خصایل کی مقبولیت اور خلوص و وفا کے اثر کو ملاحظہ فرماچکے ھیں، جو بدظنی که حاسدوں اور دشمنوں کی غیبت سے پیدا ھوگئی ھے اس کو یگانگت اور محبت کے جذبہ سے رفع فرمادیں، اور وہی عنایت اور الفت جو پہلے تھی اس اخلاص کیش کے حال پر پھر ھو جائے۔خواجہ نے آگے چل کر اس کی بھی شکایت کی ھے کہ بعض لوگوں نے جن کا مبلغ علم اور قوت ادراک نہایت محدود ھے میری ذهنی استعداد اور علمی

p45

مکتوبات میں بھی درج ھے جو خواجہ نے اپنے دوستوں اور عزیزوں کو لکھے تھے ۔

p46

۱۴ ۷۶-۸۱ ( بیدر ) بڑے بھائی ( شھاب الدین ؟ ) کے نام ھے ۔ ابتدا میں لکھا ھے کہ میں اپنے خلوص اور عقیدت مندی کے متعلق لکھنا چاھتا تھا لیکن بھائی کو اس قسم کی باتیں لکھنی چونکہ ایک طرح کی دنیا داری ھوگی اس لئے ایسے اظھار سے گریز کی ۔ پھر داد و دھش کی تعریف کی ھے اور اس ضمن میں سید اشرف ( سلالہ سید شریف جرجانی ) کی مدد کی سفارش ھے ۔ آخر میں آئندہ سال اپنے مکہ معظمہ جانے کا ذکر ھے ۔ ( سید شریف جرجانی کے لئے ملاحظہ هو حبیب السیر، جلد سوم، جزء سوم ، صفحہ ۸۹ )

p47

۱۵ ۸۲-۸۳ ( اوائل ذی قعد ، گلبرگه ) بڑے بھائی ( شھاب الدین ؟ ) کے نام ھے جنھوں نے مولینا فخر الدین احمد اسفرائنی کی سفارش کے لئے خط بھیجا تھا ۔ خواجہ نے بھائی کی لطف و احسان ، کی خصلت کی تعریف کی ھے او یقین دلایا ھے کہ مولینا فخر الدین کی آرزو اس ملک میں جلد پوری ھوجائیگی اور وہ کامیاب اور خوش و خرم اپنے وطن واپس پہنچ جائینگے ۔

p48

۱۶ ۸۳-۸۷ اپنے بھتیجے عمید الملک کے نام ھے ۔ محمود خلجی سلطان مالوہ کے حملے کی مدا فعت کے لئے اول اپنی فتح آباد (موقوعہ خاندیس ؟ ) اور ملک یوسف ترک (المخاطب به نظام الملک) کی ماھور میں تعیناتی کا ذکر کیا ھے ۔ پھر گھیر لہ کی جنگ کا ال درج ھے کہ کس طرح سراج الملک (سردار افواج مالوہ ) کو مع اهل و عیال اور تیئیس ھاتھیوں کے گرفتار کرلیا اور دشمن کے تقریباً پانچ هزار سوار و پیادے مارے گئے ۔ پھر نظام الملک کے قتل کا واقعہ درج ھے، کہ ایک ہندو سردار جس کے اهل و عیال قید ھوگئے تھے ، تو عہد نامہ مرتب کرلیا جائے، اور اگر کوئی مکر اور حیلہ نظر آئے تو فوراً واپس آجائیں ۔ چونکہ گجرات اور دکن کی مملکتوں میں خدا کے فضل سے اتحاد اور یگانگت قائم ھے اس لئے آپ کو ان تمام امور کی اطلاع دینی ضروری سمجھی گئی ۔ فرشتہ (ترجمہ برگس، جلد دوم، صفحات ۸۳-۲۸۱) اور برھانِ مآثر ( صفحات ۱۱۰-۱۱۱، اشاعت مجلس مخطوطات فارسیہ) میں مالوہ کے سفیر اور صلح نامہ کی شرائط کا ذکر ھے ۔ لیکن اس مکتوب میں ایلچیوں کے نام اور صلح کی وجوہ زیادہ وضاحت سے بیان کی گئیں ھیں ۔

p49

۱۹ ۹۵-۹۶ یہ مکتوب شیخ داؤد ( ایلچی سلطان مالوہ ) کے خط کے جواب میں ھے ۔ جو غالباً قاضی لادن اور اسحق طاهر كى سفارت سے پہلے لکھا گیا تھا ۔ خواجہ کے مکتوب سے معلوم ہوتا ھے کہ شیخ داؤد نے اپنے خط میں بہمنی خاندان کے بادشاہوں کی تحقیر کی تھی اور ان کی جنگی قوّت کا مضحکہ اڑایا تھا۔ خواجہ نے اس مکتوب میں شیخ داؤد کو کھری کھری سنائی ھیں ۔ مالوہ کے خلجی بادشاہوں کی غداری کا ذکر کیا ھے کہ کس طرح نظام شاہ بہمنی مرحوم کے زمانہ میں جب مالوہ کے ایلچی آئے تو ان کی خاطر مدارات کی گئی اور یہاں سے قاصد بھیجے گئے تو ان سے بد سلوکی کی گئی اور اوباشوں کی باتوں پر اعتبار کیا گیا ۔ پھر لکھا ھے کہ اگر صلح کا حقیقی ارادہ ھے تو برسات کے شروع ہونے سے پہلے مجھے اطلاع دیدی جائے تاکہ میں عہدنامہ کی شرائط کے طے کرنے میں کوشش کروں ۔ ورنہ ہمارے بہادروں کی تلواریں اور نیزے اور گرز اور تبر اس سارے غرور اور تکبّر کو خلجی سپاہیوں اور سرداروں کے سر سے نکال دینگے جو ان کے دماغ میں بھرے ہوئے ھیں

p50

ہم عصر مورّخین کی تالیفات میں محمود گاواں کے اثر کا قابلیت کے متعلق آپ کے دل میں شک پیدا کردیا ھے ، حالانکه آپ علمی مجلسوں اور مناظروں میں دیکھ چکے ھیں که کس طرح میری طبیعت کی جدّت اور کلام کی فصاحت اور بلاغت کی تعریف ھوتی ھے ۔ آخر میں لکها هے که خدا آپ کو همیشه دشمنوں کے فساد سے محفوظ رکھے اور آپ کی بزرگی اور احسان کا ذکر همیشه تمام بنی نوع انسان کی زبان پر رھے ۔

p51

یه مکتوب محمد شاه بهمنی کی جانب سے محمود شاہ گجراتی کو لکھا گیا ھے ۔ جس میں درج ھے کہ مالوہ کے بادشاہ نے قاضی لادن طاهر اور اسحق طاهر کو اس مقصد سے بھیجا ھے که اسلامی سلاطین کے آپس کی دشمنی اور اختلاف رفع هو جائیں ۔ اسلامی اخوت کے مدّ نظر به پیغام مستحسن معلوم هوتا هے ، لیکن محمود خلجی نے جو غداری اور حیلہ گری اب تک برتی ھے اس پر سوچا جائے تو اس پیغام میں صداقت نظر نہیں آتی ، اور سلطان مالوہ سے عہد نامہ کرنے میں تامّل هوتا هے ـ تاهم بہمنی دربار کے اکابر اور فضلا کی یه رائے هے که اگر دشمن صلح کےلئے جھکے تو خود بھی جھکنا چاہئے(بفحوائی و ان جنحوا للسلم فاجنح ) ۔ اس لئے مالوے کے ایلچیوں کے همراه اس دربار کے قاصد روانه کرنا قرین شعار اسلامی هوگا ۔ گذشتہ سال بھی جب شیخ داؤد سلطان مالوه کے پاس سے پیغام لایا تھا تو یہاں سے یہ جواب دیدیا گیا تھا، که اگر تقسیم علاقه کے بارے میں پہلے سلاطین کی مقرره حدود کو ملحوظ رکھا جائے تو صلح نامه کی ترتیب میں مابدولت کو کوئی انکار نہوگا ۔ اس جواب کے مدّ نظر قاضی شیخن محتسب اور قاضی احمد نائب کو مالوہ کے ایلچیوں کے ہمراہ روانہ کیا جا رها هے که اگر سلاطین ماضی کی تقسیم کے موافق حد بندی هوجائے خطاؤں سے درگزرکرنا ھرگز مصلحت نہیں ۔ لیکن آپ کے فرمانے سےمیں نے اپنے دعوے کو اٹھالیا ھے ، ورنہ ارادہ تھا کہ مال وصول ھونے پر مصر چلا جاؤں ۔ پھر شیخ علی کے بطور ایلچی لاهجان بھیجے جانے پر خواجہ نے بڑے شد و مدسے اپنی ناراضگی اور غصہ کا اظہار کیا ھے ، اور لکھا ھے کہ وہ نہایت مکار اور متفنی ھے، اور اس کی سفارت سے تم دیکھو گے کہ رشت اور لاھجان میں جلد فتنہ پیدا ھوجائیگا۔ آخر میں بھائی کو لکھا ھے ، کہ مجھے اب کوئی دنیوی تمنا باقی نہیں ، اور اس وقت میرا میلان اور توجہ ایک اور عالم کی طرف ھے ۔ گیلان کے بادشاہوں کے مجھ پر بیحد احسانات ھیں ، لیکن سلطان علاء الدین کے انتقال کے بعد میرا گیلان واپس جانے کا ارادہ نہیں ، تم خاطر جمع رکھو ۔ یه مکتوب غالباً اس زمانہ کا ھے جب دونو بھائیوں میں صفائی نہیں تھی ۔

p52

یه مکتوب سلطان محمد شاہ بہمنی کی جانب سے محمود شاہ گجراتی کے خط ( صحیفۂ شریفہ) کے جواب میں لکھا گیا ھے ۔ سلطان گجرات نے شاہ مالوہ کے حملوں کو روکنے اور اس کی جنگی قوت کو توڑنے کے لئے سلطان جونپور کی مددکا ( غالباً) ذکر کیا تھا ۔ محمد شاہ بہمنی نے جونپور کے بادشاہ کی دوستی اور تائید کو سراہا ھے ، اور لکھا ھے کہ سلطان جونپور کی مدد سے مفسدوں کا قلع قمع ھو جائیگا ۔ ریاض الانشاء میں اور مکتوب بھی سلطان جونپور کی تائید کی ضمن میں موجود ھیں ۔ سلطان گجرات کا علاقه مالوہ سے ملحق تھا اس لئے ھمیشہ اسے محمود شاہ خلجی کی بڑھتی ھوئی قوت کا ڈر تھا، اور جونپور اور دکن کے سلاطین کی دوستی اور اتحاد کو اسی وجہ سے ضروری سمجھتا تھا کہ کہیں اس کی مملکت کو گزند نہ پہنچے ۔ جو اس نے صلح نامہ کی شرائط کے طے کرنے میں خلجی ایلچی پر ڈالا ، کوئی ذکر نہیں ھے ۔

p53

اپنے بھتیجے عمیدالملک کو اس کے خط کے جواب میں لکھا ھے۔ مرحوم بھائی ( شہاب الدین ؟) کی خصایل اور علم و فضل کی نسبت سے بھتیجے کو سراہا ھے، اور ملنے کی تمنا ظاہر کی ھے۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا ھے جب عمیدالملک مکہ کے سفر کے بعد دابل کی بندرگاہ پر اترا تھا ۔

p54

سلطان گیلان کے نام ھے ۔ خواجہ کو سلطان نے بلایا ھے، لیکن وہ گیلان کے حالات اور خود بادشاہ اور اس کے امراً کی طرف سے مطمئن نہیں ھے۔ وطن مالوف واپس آنے کی تمنا کا اظہار کیا ھے اور شاہان گیلان کے احسانات کو نہایت عقیدتمندی سے دھرایا ھے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ھے کہ بغیر سفر کی صعوبت کے حضرت رسول کریمؐ کو بھی 'انا فتحنا، کا امتیاز حاصل نہیں ہوا ۔ مجبوری اس طرح ظاہر کی ھے، کہ سلطان ہمایون شاہ بہمنی مرحوم کا مجھ پر بیحد لطف و کرم تھا اور اس کو میں ہرگز فراموش نہیں کر سکتا ۔ سلطان کا بیٹا نظام شاہ ابھی کم سن ھے اور اس کی خدمت میرے لئے فرض ھے۔ اگر وطن چلا آؤنگا تو ناشکری کا الزام عاید ھوگا۔ البتہ میرے بیٹوں کو جو گیلان میں ھیں اگر یہاں بھیجدیا جائے، تو ان میں سے جو خدمت گزاری کے لائق ھوگا اس کو گیلان بھیج دونگا ۔ لیکن اگر بیٹوں کو نہ بھیجا گیا تو سمجھونگا کہ ابھی تک سلطان کا دل میری طرف سے صاف نہیں ھے ۔

p55

اپنے بڑے بھائی کے نام ھے، جو غالباً اس وقت گیلان میں وزیر تھے ۔ بھائی نے خواجہ کو لکھا ھے کہ تاج الدین بن نجم الدین کے قصور کو معاف کردو، اور جو کچھ تمھارا مال و متاع اس کے پاس رہ گیا ھے اس کا مطالبہ نہ کرو ۔ خواجہ نے جواب دیا ھے کہ ایسے کمینے اور احسان فراموش کی ۲۶ ۱۱۷ سنگیسر کی مہم کے دوران میں ھے یہ خط اپنے چھوٹے بیٹے الغ خاں کو لکھا ھے ۔ جس میں تن آسانی کی مذمت کی ھے، اور جفاکشی اور محنت کی تعریف کی ھے۔ یہ بھی لکھا ھے کہ میری نصیحت پر تم عمل نہیں کرتے ، حالانکہ میں ایک مہم سرکرنے آیا ہوا ھوں لیکن تمہاری بے توجہی کی خبریں سنکر مجھسے یہاں بھی رنج و ملال ہوتا ھے۔

p56

۲۷ ۱۱۸-۱۹ یہ مکتوب بھی الغ خاں کے ہی نام ھے ۔ اس کی بد شوقی پر اظہار ناراضگی کیا ھے، کہ اگر رضا الٰہی اور میری خوشنودی چاھتے ھو، تو تحصیل علم و ادب میں کوشش کرو اور جوانی کے زمانہ کو اوباشوں اور برے لوگوں کی صحبت میں ضائع نہ کرو ۔ یہ خط بھی سنگیسر کی مہم کے دوران میں لکھا گیا ھے ۔

p57

۲۸ ۱۲۰-۲۱ یہ مکتوب مولینا شمس الدین لاری کے خط کے جواب میں ھے، جنہوں نے خواجہ کی مصائب اور هجوم حادثات پر تسلی دلائی تھی ۔ خواجہ نے لکھا ھے کہ آپ کے مکتوب سے میرے دل کو تسکین ھوئی اور محبت اور الفت تازہ ھوگئی ۔ پھر شکوہ کیا ھے کہ آپ نے تعجب ھے کمال خاں کے فرزند کی کاهلی اور تحصیل علم سے بے توجہی کا ذکر سن لیا ۔ آئندہ مکتوبات میں ضرور اس کا حال لکھیں تاکہ آپ کی محبت میرے دل میں قائم رھے ۔

p58

۲۹ ۱۲۱-۲۲ عمدةالملک(عمیدالملک) نے خواجہ کو کسی واقعہ پر تعزیت کا خط لکھا تھا اور رینگنا کی فتح پر مبارکباد دی تھی ۔ خواجہ نے جواب میں لکھا ھے کہ آپ کی همدردی سے دل کو تسلی حاصل ھوئی ۔ رینگنا کی فتح سے اب کھیلنا بھی فتح هوجائیگا اور اس علاقے میں جتنے قلعے ھیں اور ملیبار کی جتنی بندرگاهیں وہ بھی فتح هو جائینگی ، اور گووا کے جزیرہ کی فتح کی تو اسی مہینے میں امیدھے ۔ ۲۳ ۱۱۴-۱۱۶ یہ مکتوب غالباً گجرات کے وزیر کے نام هے ـ جس نے محمود گاوان کو جونپور کے سفیروں کی خاطر مدارت کے لئے لکھا تھا، اور اپنے خط کے همراه سلطان گجرات کا بھی مکتوب بھیجا تھا ۔ محمود گاواں نے جواب میں لکھا هے ، آپ کے ارشاد کے مطابق سفیروں کی خاطر مدارت کی گئی هے ، اور سلطان حسین شاه ( شاه جونپور ) کے نام محمد شاه بہمنی کی طرف سے مکتوب روانه کر دیا گیا هے ۔ میں اس وقت گوھر کی ولایت کے قریب فوج کا انتظام کر رها هوں ـ اس مہینے کے آخر تک تمام سپاه جمع ھو جائیگی ۔ اور جمادی الآخر کے اول میں سنگیسر میں داخل ھوکر جیسی مرضی الٰہی ھوگی کار روائی شروع کر دونگا ۔ اور کشتیاں اور جہاز چیول اور دابل ( وابل ) کی بندرگاہوں سے بھی سپاہ اور جنگی سامان لیکر سنگیسر کے قلعوں اور علاقوں پر اس طرح حملہ آور ھونگے که جلد فتح ھو جائیگی ـ سید عماد الدین میرے همراه هیں اور جو تدابیر کہ اختیار کی جارھی ھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے ھیں ۔ آخر میں خواجه نے وزیر گجرات (؟) کو مراسلت کے جاری رکھنے اور دوستی و اتحاد کے بڑھانے کے لئے لکھا ہے ۔ سید عماد الدین غالباً گجرات کے دربار سے تعلق رکھتے تھے ۔ سنگیسر کی مہم کا ذکر متعدد مکتوبات میں درج ھے ( ملاحظه هو ن مکتوبات ۲۰ ۱۱۶ اپنے کسی رشته دار کو لکھا هے کہ میرا دل بغض اور کینه سے پاک ھے ۔ اور رشتہ داروں کی محبت میری فطرت میں داخل ھے۔ اور میں چاهتا هوں کہ میری اولاد بھی اس بارے میں میری تقلید کرے ۔ آپ جیسے سلیم الطبع اور فیض رساں عزیز کے برخلاف میرے دل میں کس طرح کوئی برا جذبه پیدا هو سکتا ھے ۔ ۳۲ ۱۲۵-۲۹ ( اوائل محرم ، محمد آباد بیدر ) یه مکتوب محمود شاه وزیر سلطان روم کے خط کے جواب میں ھے۔ خواجه نے دونو سلطنتوں میں دوستی اور اتحاد کی ترقی پر خوشی ظاهر کی ھے اور محمود شاہ کا شکریه ادا کیا ھے، کہ آپ بہمنی سفیروں اور قاصدوں کی جو خاطر مدارات فرمارھے ھیں وہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کی دلیل ھے ۔ پھر رسل و رسائل کےسلسله کو جاری رکھنے کی تمنا ظاهر کی ھے، اور آخر میں لکھا ھے کہ هند اور روم کی مملکتوں میں اگرچه فاصله بهت ھے، لیکن رومی کاغذ (بیاض) اور هندی سیاھی کا باهمی تعلق انشاالله دلی قربت پیدا کردیگا ۔ اس مکتوب میں خواجه نے محمود شاہ کے اعجاز قلم کی طرف بھی ان الفاظ میں اشاره کیا ھے۔ ” بقلم عصا صورت ثعبان سیرت موسوی دعوی سحره مصر بلاغت را یکسره باطل نمایند ۔ ،، ۳۳ ۱۲۹-۱۳۱ یه خط خواجه نے اپنے بیٹے عبدالله کو لکھا ھے جو گیلان سے ھندوستان آیا ھے اور دابل کی بندرگاہ پر اترا ھے۔ خواجه نے اس کی سلامتی اور عافیت پر والہانه خوشی ظاهر کی ھے، اور لکھا ھے کہ جلد میرے پاس آجاؤ ۔ پھر جوفرمان بہمنی بادشاہ نے عبد الله کے نام صادر کیا تھا، اور جس کے ساتھ خلعت بھی بھیجا تھا خواجه نے لکھا ھے کہ اس کا استقبال کرنا اور تمہاری جو آرزوئیں ھیں وہ جلد پوری هو جائیں گی ۔ خواجه نے سلطان گیلان کو لکھا تها که میرے بیٹے جو وہاں رہ گئے ھیں ان کو میرے پاس بھیجدیا جائے ان میں سے جو خدمت کے لائق ھوگا اس کو گیلان بھیجدونگا (ملاحظه هوں مکتوبات نشان ۶ و ۲۱) ۔ معلوم ھوتا ھے کہ عبدالله کا باپ کے پاس آنا سلطان گیلان کی اجازت سے ھوا ھے۔ ۳۴ ۱۳۱-۳۳ یه مکتوب خواجه نے صدر بن كبير ( المخاطب بشرف الملک) وزیر مالوه کو اس کے خط کے جواب میں لکھا ھے۔

p59

خواجہ نے اس خط میں اپنے کو محمود المخاطب بہ ملک التجار لکھا ہے۔ خواجہ جہاں کا خطاب اب تک عطا نہیں ہوا تھا۔ کونکن کی فتح محمود گاوان کا بڑا کارنامہ ہے ۔ فرشتہ (ترجمہ برگز، جلد دوم ، صفحات ۵۵-۴۵۳) اور برهان ماثر (طبع مجلس مخطوطات فارسیه ، صفحات ۶-۱۴۱) دونوں میں کونکن کی فتح کا ذکر موجود ہے ۔ لیکن جو حالات خواجہ نے مکتوبات میں لکھے ہیں وہ مہم کے واقعات پر مزید روشنی ڈالتے ہیں ۔

p60

۱۲۲-۲۴ ۳۰ ۔ یہ مکتوب مولینا ابو سعید کے نام ہے جنہوں نے خواجہ کو کچھ عرصہ سے خط نہیں لکھا تھا ۔ مکتوب میں مولینا ابو سعید کو لکھا ہے کہ قلعہ کھیللنا کے استحکام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور قلعہ رینگنا کی بلندی اور وسعت کے حالات سنکر مجھے یقین ہوگیا کہ محض جنگ و جدل سے یہ قلعے مسخر نہو نگے ۔

p61

چنانچه جب تائید الہی سے رینگنا کا قلعہ ، ۲ محرم الحرام کو فتح ھو گیا، تو کھیللنا کے قلعہ کی تسخیر کی صورت بھی پیدا ہوگئی ۔ اور میں نے جاکھو رائے اور اس کے سرداروں کو داد و دہش اور میٹھی زبان سے ایسا نوازا ہے کہ وہ سب مطیع اور فرمانبردار ھو گئے ہیں، اور اپنی کمزوری اور زبون حالی کو محسوس کرنے لگے ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں آگے بڑھنے کا پکا ارادہ ہے، اور امید واثق ہے کہ کھیللنا کے قلعہ پر مع اس کے خزانوں اور دفینوں کے قبضہ ھو جائیگا ۔ همت افزائی فرماتے رھیں تاکہ یہ مہم سر ھو جائے ۔

p62

۱۲۴ ۳۱ سید مهدی تبریزی کے مکتوب کا جواب ہے ۔ مولینا تبریزی نے اپنا کلام خواجہ کو بھیجا تھا ۔ خواجہ نے اشعار کی تعریف لکھی ہے اور تبریزی کی صحت و عافیت کے لئے دعا کی ھے۔ ۳۶ ۱۳۶-۴۱ یه خط خواجه نے تادیبی انداز میں اپنے بڑے بیٹے علی کو لکھا ھے۔ بہمنی سلطان نے اسے ملک التجار کا خطاب عطا فرمایا تھا اور وجیا نگر کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ بیٹے کی لغزشیں باپ کے کان تک پہنچی ھیں چنانچه اس نے نو نصیحتیں کی ھیں جو حسب ذیل ھیں ۔ (۱) شمایل پسندیدہ اور صفات حمیدہ کا جامع رھے۔ (۲) مقاصد کی طلب میں همیشه عواقب امور پر نظر رکھے ۔ اور باپ اور دادا کی دوررس نگاه پر کاربند هو - (۳) چھوٹے اور بڑے امرا اور سورما سرداروں کے اعزاز کا خیال رکھے ان کی دلجوئی کرتا رھے اور ملول نه هونے دے (۴) عفو اور سیاست میں تدبر برتے اور افراط تفریط نہونے پائے اور ھر عمل خوش اسلوبی سے ہو۔ (۵) ایسے افراد جو صاحب عقل و دانش ھیں اور جن کے اثر اور فراست اور گفتگو سے فتنہ و فساد رفع هو سکتا هے ان پر همیشه نوازش رکھے اور ان کے مقاصد کو پورا کرتا رھے (۶) ایسے افراد کی صحبت سے گریز کرے جو اخلاق اور شمایل حمیدہ سے عاری ھوں اور جن کے ادراک و فہم سے معاملات کی گنجھٹیاں نہ سلجھ سکین۔۔ (۷) ملک و رعایا کو ظالموں کی زیادتی سے محفوظ رکھے ۔ (۸) فوجی عهدہ داروں اور رؤسا کی تنخواھوں ، راتبوں اور معاشوں کی اجرائی میں هرگز سستی اور لاپروائی نہ برتے ۔ تا که متعلقه جمعیت ، سوار و پیاده ، خوش دل رھے۔ اور لشکر کے عہدہ داروں اور سرداروں سے ایسے کام نہ لے جو ان کی بساط سے باھر ھوں اور جس سے وہ تنگ آجائیں ۔ (۸) معاملات کو سلجھانے اور مہمات کے سر کرنے میں خود غور و فکر اور تدبیر کرے ۔ اور بعجز و نیاز خدا تعالیٰ سے طالب توفیق اور مدد هو - اور جب کوئی تدبیر ذهن میں آئے تو معرکہ آرائی سے قبل تجربه کار بڈھوں اور روشن ضمیر جوانوں سے بھی مشورہ کرے ۔ (۹) جب میدان جنگ میں قدم رکھے الله کی صدر بن کبیر نے بہمنی ایلچیوں کے پہنچنے کا ذکر کیا تھا کہ قاضی احمد اور سید محمود کو میں شادی آباد (مانڈو) میں چھوڑ آیا ھوں اور خود سارنگ پور جہاں آج کل بادشاه (محمود شاہ خلجی) مقیم ھے جارھا ھوں ۔ صدر بن کبیر نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ کی (خواجہ کی) حسن نیت اور صفائی باطن کو میں بادشاہ کے ذھن نشین کر چکا ھوں ۔ خواجہ نے اس عیارانہ چاپلوسی کا اپنے مکتوب میں نہایت لطیف پیرایہ میں جواب دیا ھے۔ اور لکھا ھے کہ یہ عاجز ابھی تک دنیا کے جھگڑوں میں گھرا ھوا ھے اور فکر عقبیٰ سے غافل ھے ۔ اور کسی تعریف اور توصیف کا اھل نہیں ۔ لیکن اپنے ولی نعمت (بہمنی باد شاہ) کی خدمت گزاری کو واجب سمجھتا ھے۔ پھر لکھا ھے کہ جن خطوط کا آپ نے ذکر کیا ھے ان میں سے بعض موجود ھیں بعض غائب ھوگئے، اور چونکہ خطوں کے لیجانے سے قاصدوں نے انکار کردیا ھے اس لئے راستوں کے پر امن ھو جانے اور امانت دار قاصدوں کے ملنے تک یہ مکتوبات روانہ نہ کئے جا سکیں گے ۔ معلوم ھوتا ھے صدر بن کبیر محمود گاواں کو توڑنا چاھتا تھا ۔ لیکن وہ گرگ صد باران دیدہ تھا ، خلجی وزیر کے دام تزویر میں نہ پھنسا ۔ خلجی بادشاہ سے عہد نامہ کی تدوین کے متعلق مکتوبات نشان ۱۸ و ۱۹ بھی ملاحظہ فرمائے جائیں۔

p63

۳۵ ۱۳۳-۳۰ یہ مکتوب عربی زبان کے مشهور نحوی سید شریف جرجانی کے بیٹے سید ابراهیم کے نام ھے جنہوں نے خواجہ کو خط لکھا تھا اور اپنے آنے کی اطلاع دی تھی ۔ خواجہ نے سید ابراهیم کی انشا پردازی اور علم و فضل کی تعریف کی ھے اور ان کے آنے پر خوشی کا اظہار کیا ھے۔

p64

خواجہ سید شریف کے خاندان کا بڑا خیال رکھتا تھا ۔

p65

ملاحظہ ہو مکتوب نشان ۱۴

p66

خلّاق المعانی کمال اصفھانی کےلئے ملاحظہ ھوتذکرہ دولت شاہ سمرقندی،مصححہ براؤن،صفحات ۵۳-۱۵۲،حبیب السیر جلد دوم،جزء چہارم،صفحہ ۱۹۰ ، تاریخ ادبیات ایران انگریزی متن) مؤلفہ براؤن ، جلد دوم،صفحات ۵۴-۳۵۴ - اوحدالدین انوری کے لئے دیکھئے تذکرہ دولت شاہ ، مصححہ براؤن صفحات ۸۶-۸۳، حبیب السیر جلد دوم ، جزء چہارم ، صفحات ۱۰۳-۱۰۴ ، تاریخ ادبیات ایران ( انگریزی متن) مؤلفہ براؤن ، جلد دوم ،صفحات ۳۶۵-۹۱ اور بدیع الزمان ھمدانی ابوالفضل احمد بن الحسین کےلئے ملاحظہ ھوں يتيمة الدھر،مؤلفہ ثعلبی، جلد چہارم، صفحات ۹۶ ۱۶۸ ، ۱۷۹، تاریخ ادبیات یران ( انگریزی متن) مؤلفہ براؤن جلد، دوم ، صفحات ۱۱۳-۱۱۲ - ۳۸ ۱۵۲-۵۶ یہ مکتوب مولینا جامی کے نام ھے، سنگیسر کی مہم کے دوران میں لکھا گیا ھے ، مولینا سے اس علاقہ کی فتح کےلئے باطنی تائید اور دعا چاھی ھے ۔ اور لکھا ھے کہ اس خطّہ پر اب تک کسی مسلمان بادشاہ کا قبضہ نہیں ھوا ۔ بہت سے بلند مقامات پر مستحکم قلعے ھیں ، اور اھل اسلام پرسمندر اور خشکی دونو میں لوٹ مار کی جا تی ھے ۔ پھر لکھا ھے کہ آپ کا مکّہ معظمہ جانے کا قصد ھے اگر ھندوستان کے راستہ سے جائیں تو مجھ جیسے بھٹکے ھوؤں کو ھدایت حاصل ھوجائیگی ۔ اور ذات عالم تاب کو خراسان سے ھندوستان آنے میں کسی گہن کا اندیشہ نہیں، البتہ آپ کے نور جمال سے یہ خطّہ منور ھو جائیگا ۔ مولینا نے فصوص الحکم کی شرح کا ایک نسخہ بھی خواجہ کو بھیجا تھا ۔ خواجہ نے شکریہ اداکیا ھے اور لکھا ھے کہ توحید کے متعلق جو شکوک تھے ۔ وہ اس مدد پر بھروسہ رکھے ۔ جان کی محبت اور ذاتی خواہشوں کو بھول جائے ۔ اور ہمّت اور جرأت کو اصل سعادت اور ننگ و ناموس سمجھے ۔ حقیقت یہ ھے کہ پیشانی پر شھادت کا ٹیکہ بزدلانہ زندگی کے رنگ و روغن ( گلگونه ) سے کہیں شاندار ھے۔ آخر میں لکھا ھے کہ اگر ان نصیحتوں پر عمل کیا گیا تو مجھے امید ھے کہ جلد یہ خبر سنونگا کہ تمہاری سپاہ بیجانگر ( وجیا نگر ) کے وسط میں پہنچ گئی ۔ علی کی کردار کو سمجھنے کے لئے مکتوبات نشان ۹۲ ۹۳ ، صفحات ۸۱ - ۲۸۰ ، بھی ملاحظه ھوں ۔ ۱۴۱-۵۲ ۳۷ یہ خط غالباً عبدالله کے نام ھے جو گیلان میں تھا ۔ اول بیٹے کو یقین دلایا ھے کہ یہاں ( دکن میں ) ھر چیز دلی مراد کے مطابق ھے اور دشمن اور حاسد ذلیل و خوار ھیں ۔ پھر بیٹے کو نصیحت کی ھے تم بھی سکون قلب رکھو اور توکّل اور بارگاہ ایزدی میں عجز و نیاز اختیار کر کے دشمنوں پر غالب رھو ۔ میں نے جو لامیہ قصیدہ کمال الدین اصفهانی کے قصیدہ کے جواب میں لکھا تھا اور دو قصیدے جو بادشاہ ( محمد شاہ بهمنی) کی مدح میں انوری اور بدیع الزماں همدانی کے قصیدوں کے طرز میں مرتّب کئے تھے ، ان کی نقول تمہارے التماس کے بموجب بھیج رھا ھوں ۔ پہلے قصیدہ میں محمود گاواں نے کمال اصفهانی پر اس طرح اپنا تفوق جتایا ھے۔ از نور آتش طبع و ز چربی زبانم مصباح نظم و نثرم روشن کند محافل گر شد کمال در شعر بے مثل لیک نبود در فضل و علم و دانش این بنده را مماثل ھے ۔ ایک سو بیس جہاز تسخیر کے لئے بحری راستہ سے روانہ کئے گئے، اور میں خود ایک جرار فوج کے ساتھ خشکی کے راستہ سے حملہ آور ھوا اورگووا کا سرسبز اور خوش منظر جزیره ۲۰ - شعبان کو فتح ھوگیا ۔ اب ھنور کی بندرگاہ تک بڑھنے کا قصد ھے، اور پھر محمد آباد ( بیدر ) واپس چلا جاونگا ۔ بعد میں لکھا ھے کہ اس سال کچھ تحایف بطور ھدیہ اور اپنے قاصد بھیج رھا ھوں تاکہ وہ واقعات بیان کردیں اور آئندہ سال عبد اللہ کو روانہ کرونگا ۔ امید ھے اس کی تربیت میں وہی توجہ اور شفقت رھیگی جو همیشه اس خاندان کے افراد پر مبذول رھی ھے ۔ کوکن کی مہم کےلئے فرشتہ ( انگریزی ترجمه برگز ، جلد دوم ، صفحات ۸۷ - ۸۵) اور برهان مآثر ( طبع مجلس مخطوطات فارسیه، صفحات ۱۶ - ۱۱۴) سلاحظه فرمائیے ۔ اس مکتوب میں تاریخیں اور حالات زیادہ وضاحت سے درج ھیں ۔

p67

۱۶۵-۷۲ ۳۰ ( رمضان ، عشر اواخر ) یہ مکتوب مولینا جامی کو ان کے خط کے جواب میں سنگیسر کے علاقہ سے لکھا ھے۔ پہلے مولینا کے مکتوب کا شکریہ ادا کیا ھے ، اور ملاقات کی عقیدتمندانہ تمنا ظاهر کی ھے، اور یہ شعر لکھا ھے ۔ علمی که ره بدست برد در کتاب نیست و آنها که خوانده ایم همه در حساب نیست

p68

پھر لکھا ھے کہ اس سال کافروں کے پانچ سنگین قلعے فتح ھوئے ۔ سنگیسر کا راجه خشکی اور سمندر میں تاجروں کا مال لوٹا کرتا تھا ، اور اس غرض سے اس کے تین سو جہاز سمندر میں چلتے تھے ۔ یکم رجب کو ان سب قلعوں اور ملحقہ شہروں اور گاؤں پر قبضہ ھو گیا ، اور گووا کی بندرگاہ بھی فتح ھو گئی۔ کے مطالعہ سے رفع ہوگئے ، آخر میں پھر عقیدتمندانہ تمنا ظاهر کی ہے کہ هندوستان ضرور تشریف لائیے ۔

p69

۳۹ ۱۵۷-۶۰ ( اوائل ماہ رمضان ) سلطان گیلان کے نام کو کن کی کسی چھاونی سے لکھا گیا ۔ مکتوب کو نہایت عجز و انکسار سے شروع کیا ہے ۔ اپنے کو ’’ کمینہ مخلص باوفا ،، کہا ہے۔ پھر دولت خواھی کا اظہار کیا ھے اور سلطان کو کوہ دم اور کوجستان کی فتح پر مبارکباد دی هے ۔ دو کن کی مہم کے حالات کی ضمن میں لکھا ہے کہ رینگنہ کا مستحکم اور بلند قلعہ محرم کے مہینے میں فتح هو گیا تھا ، لیکن سنگیسر کے راجہ کو اپنے علاقے کے دشوار گزار پہاڑوں اور جنگلوں اور مضبوط قلعوں پر بڑا گھمنڈ تھا ۔ اور راجہ اور اس کے متعلقین کے تقریباً تین سو جہاز مسلمانوں کا مال و اسباب لوٹنے کے لئے سمندر میں مختلف سمتوں میں چلتے تھے۔ مقابلہ اور اس علاقہ کی تسخیر کے لئے میں نے سوچا کہ جنگی قوت کے علاوہ مال و زر اور تسخیر قلوب کو بھی کام میں لانا چاھئے ۔ چنانچہ یکم رجب کو میں نے اپنی بہادر سپاہ کے ساتھ جس میں ترک و عرب اور کرد و حبوش شامل تھے ماچال کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا ، اور تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی اور تیغ زنی کے ایسے جوہر دکھائے کہ قلعہ تھوڑی دیر میں فتح ہو گیا ۔ ماچال کے مسخّر هو جانے سے راجہ پر بڑا اثر ھوا اور کیلنا ( کھیلنا ) کے قلعہ سے جہاں وہ مع اهل و عیال اور مال و متاع مقیم تھا اپنے بیٹے کو معتبر آدمیوں کے ہمراہ اطاعت کے پیغام کے ساتھ بھیجا ۔ چونکہ اصلی مقصد اس علاقہ پر قبضہ کرنا تھا اس لئے اس کی اور اس کے اهل و عیال کی جان بخشی مصلحت سمجھی۔ اور ولایت اسلام میں سے جس قدر گاؤں اس کے گزارہ کے لئے کافی ہوسکتے تھے اس کو عطا کئے گئے۔بعد میں گوا کے جزیرہ کا رخ کیا جو بیجا نگر کی حکومت کی سب میں بڑی بندرگاہ چاہیں تو ایک سال کے بعد آپ کو ایسا سرافراز اور فائز المرام پہنچا دیا جائیگا کہ چھوٹے بڑوں کی نگاہ میں آپ کی عزت اور وقار میں مزید اضافہ ہوجائیگا ۔ اس مکتوب میں بھی سنگیسر کے علاقے کی تسخیر کا ذکر ھے ۔

p70

خواجہ عبداللہ (عبیدالله؟) کے مکتوب کا جواب ھے۔ پہلے اپنی عقیدتمندی کا اظہار کیا ھے ۔ پھر صفائی ظاهر و باطن کے لئے ھدایت و توجه چاهی ھے خواجہ عبد الله (عبیدالله؟) کے لئے ملاحظہ فرمائیے حبیب السیر ، جلد سوم ، صفحات ۱۰ - ۲۰۰ -

p71

اپنے بھتیجے عمید الملک کو جو اس وقت مکہ معظمہ میں تھا لکھا ھے ، کہ دعا کرو کہ ملبار کی بندرگاھیں جو کفار کے قبضہ میں ھیں ھمارے خاندان کی سعی و کوشش سے فتح ھو جائیں ۔ یہاں کے موجودہ حاکم جو کافر ھیں مسلمان سیاحوں اور تاجروں کو لوٹتے ھیں اور مار ڈالتے ھیں ۔ خدائے بزرگ اس مقام پاک کی برکت سے ھماری عاجزانہ دعا کو قبول فرمائے ۔

p72

عمید الملک اور عمدة الملک دونوں خطاب تقریباً ھم معنی ھیں ۔ ممکن ھے کا تبوں کی غلطی سے عمید ' عمدة ، ھو گیا ھو ۔ یا عمدة ' عمید ، ھو گیا ھو ۔ مکتوب نشان (۲۹) میں اس بھتیجے کا خطاب عمدة الملک درج ھے ۔ اور یہاں عمید الملک لکھا گیا ۔ اکثر مکتوبات میں عمید الملک ھی لکھا گیا ھے۔

p73

بہمنی سلطنت کے کسی وزیر کو ایسی چھاونی سے لکھا گیا ھے جہاں سے گووا صرف چوده (۱۴) فرسخ ره گیا هے - خواجہ کی فوج کے بعض افسر وھاں پہنچ چکے ھیں ، چنانچہ لکھا ھے اسعد خاں اور کشور خاں وھاں ھمارا انتظار کر رھے ھیں ۔ گووا کی زرخیزی اور شادابی کی تعریف کی ھے ، نارجیل اور چھالیہ کے درخت بکثرت ھیں اور نیشکر اور پانوں کی بھی ۴۱ ۱۷۲-۷۳ مشهور عالم جلال الدین دوانی کے نام ھے ۔ ان کو دکن بلایا ھے اور لکھا ھے کہ اگر علوم ظاهری کے پڑھانے کی طرف طبیعت مائل هو تو اس کا بھی یہاں پورا اهتمام ھے اور صاحب استعداد طالب علم موجود ھیں ۔ اخر میں ان کی صحت اور عافبت پر خوشی ظاهر کی ھے اور ملنے کی تمنا کو ان الفاظ میں بیان کیا ھے ۔ طیران مرغ خاطر این فقیر در هوای آن طرف است و چشم دل بستهام منتظر نظارهٔ رخسارهٔ آن عز و شرف ، ـ جلال الدین دوانی کے لئے تمھید صفحه ى ۔ و اور حبیب السیر ، جلد ۔ سوم ، جزء چهارم ، صفحه ۱۱۱ ملاحظه فرمائیے ۔ ۴۲ ۱۷۳-۷۵ مولینا کمال الدین رومی کے مکتوب کے جواب میں لکھا گیا ، مولینا نے اپنے بیٹے خلیل الله کو دکن بھیجا تھا ، خواجه نےکوکن کے ھی کسی مقام سے جواب دیا ھے، اور لکھا ھے کہ گذشتہ سال سے میں اس علاقہ کی تسخیر کے لئے آیا ھواھوں، بہت سے قلعے فتح ھوچکے ھیں ،شروع ذی قعد تک بیدر واپس پہنچ جاؤنگا ۔ آپ مولینا خلیل الله کی طرف سے بالکل مطمئن رھیں، میں ان کی مرضی کے مطابق انتظام کردونگا ۔ اس مکتوب میں چونکہ اصطرلاب ، اور افلاکیات کی اصطلاحات کا تلازمہ ھے اس لئے معلوم ھوتا ھے ، کہ مولینا کمال الدین کو هیئت اور متعلقہ علوم میں خاص مهارت تھی ۔ ۴۳ ۱۷۰-۷۶ ابوبکر طهرانی کو سنکیسر کی بندرگاہ سے لکھا گیا ھے ۔ ابوبکر طهرانی بڑے پایہ کا ادیب معلوم ھوتا ھے،وہ ھندوستان آنے سے ذرا گھبراتا ھے ۔ خواجه نے اسے اطمینان دلایا ھے کہ یه ملک داد و دهش اور عالی همّتی میں دنیا کے تمام ملکوں میں ممتاز ھے، اور یہاں همیشه علما اور فضلا آتے رھتے ھیں ۔ اگر یہاں آنے کے بعد آپ واپس وطن جانا ۵۰ ۱۸۵-۸۸ یہ مکتوب قاضی سرف الدین (المخاطب به صدر جھان) کے نام هے ۔ اس میں خواجه نے صدر جھاں کی کم التفاتی کا شکوہ کیا هے ۔ پھر لکها هے که میری گردن سوائے همایوں شاہ بہمنی کے احسانات کے اور کسی کے فضل و کرم سے دبی ھوئی نھیں هے ۔ اور اگر میں نے کسی نو وارد یا مملکت کے کسی رھنے والے کے ساتھ سلوک کیا هے تو یه میری عادت هے کسی کا کوئی حق مجھ پر واجب نه تها - اور چونکہ میری آپ سے دوستی هے اس لئے صاف صاف لکھ رها ھوں ۔ آخر میں خط بھیجنے کی آرزو ظاهر کی هے تاکہ دل کی کوفت رفع هو۔ اور یه بھی لکها هے که میرے دشمنوں اور حاسدوں کے کہنے سننے کا یقین نه کریں ۔ قاضی شرف الدین کے لئے ملاحظه هوسکٹوب ۱۷۱ صفحات ۲۴۲-۲۴۱ ۵۱ ۱۸۹-۹۰ یہ مکتوب محمد شاہ بہمنی کی طرف سے محمود شاه سلطان گجرات کے نام هے ۔ اسلام خان گجرات سے بطور سفیر آیا تھا اور دوستی اور اتحاد کا پیغام لایا تھا ۔ مکتوب میں اس پیغام پر خوشی کا اظہار کیا گیا هے اور یہ بھی درج هے که یہاں سے (بہمنی حکومت کی جانب سے) سید مظفر الدین کو روانه کیا جا رہا هے تاکہ باہمی اتفاق اور یگانگت اور مستحکم هو جائے ۔ پھر لکها هے فلاں ( خواجه محمود گاواں ) کو سنگیسر کی مہم کےلئے نامزد کردیا گیا هے ۔ تا که اس علاقہ کی ھر بندرگاه میں مسافروں اور تاجروں کی جان و مال محفوظ ھوجائے اور وہ بے کھٹکے آ جا سکیں۔ گذشته سال رینگنا کا قلعه جو ملیبار کی بندرگاهوں کی کنجی هے فتح ھو گیا تھا ۔ اور کچھ عرصه سے مابدولت کی فوجیں ماچال ، کھیلنا (کھيلنا) ، بلواره ، مریاد اور نگر کے قلعوں کا محاصرہ کئے ھوئے تھیں، تائید الہی سے یه سب قلعے فتح ھوگئے ۔ آخر میں سید مظفر الدین فراوانی هے - رینگنہ کے قلعہ کی تسخیر کی ضمن میں لکھا ھے ، کہ سنگیسر کے راجہ کا غرور اور گھمنڈ اپنے علاقے کے قدرتی موانع اور قلعوں کی مضبوطی پر غیر واجبی نہ تھا - اور ھم بغیر درھم و دینار اور تالیف قلوب محض بہادری سے اس علاقہ کو فتح نہیں کرسکتے تھا ۔ مکتوب کے آخر میں وزیر سے ھمت افزائی چاھی ھے ۔

First 73 of 1,284 passages. Read on

See also: more in Epistolography and official letters (inshāʾ)

Discussed in 2 studies in Pramāṇa (listed on the page).