Riyāḍ al-inshāʾ p44
Riyāḍ al-inshāʾ p44
p44
کے خط کے جواب میں ھے، جنھوں نے خواجہ کی سیرت اور علمی قابلیت پر بدگمانی ظاہر کی تھی ۔ خواجہ نے بھائی کو لکھا ہے کہ آپ تو میرے اخلاق ( حمیدہ و ذمیمه ) کو سفر اور حضر دونو میں اچھی طرح پرکھ چکے ھیں، اور بادشاہوں اور اکابر کی صحبت میں بھی میری خصایل کی مقبولیت اور خلوص و وفا کے اثر کو ملاحظہ فرماچکے ھیں، جو بدظنی که حاسدوں اور دشمنوں کی غیبت سے پیدا ھوگئی ھے اس کو یگانگت اور محبت کے جذبہ سے رفع فرمادیں، اور وہی عنایت اور الفت جو پہلے تھی اس اخلاص کیش کے حال پر پھر ھو جائے۔خواجہ نے آگے چل کر اس کی بھی شکایت کی ھے کہ بعض لوگوں نے جن کا مبلغ علم اور قوت ادراک نہایت محدود ھے میری ذهنی استعداد اور علمی