Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p106

Riyāḍ al-inshāʾ p106

p106

۸۴ ۲۵۶-۶۱ یہ مکتوب شیخ محمود مندوی کے نام ھے ۔ جس نے نجم الدین محمود کے همدست ایک خط اور زبانی پیغام خواجه کو بھیجا تھا ۔ خواجہ نے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ آپ کے مکتوب میں دو اہم باتیں درج تھیں اور مجھ سے خواهش کی گئی تھی کہ میں ان کو بادشاہ سلامت کے گوش گزار کردوں، چنانچہ میں نے دونو کو بارگاه خسروی میں عرض کردیا ۔ پہلے پیغام کے متعلق تو یہ فرمان ھوا ھے کہ آپ کے بیان میں چونکہ بیرونی ملمع گری اور اندرونی کھوٹ ھے اس لئے اس کا جواب بجائے قلم کے تلوار سے دیا جانا زیادہ مناسب ہے۔ اور اس اندرونی کھوٹ کا حال ذیل کے واقعات سے کھلتا ھے۔ پچھلے بہمنی بادشاه کی وفات کے بعد ابھی مملکت کا انتظام پورے طور سے قبضہ میں نہیں آیا تھا کہ جاجنگر اور تلنگانہ کے راجا اور زمیندار موقع کا فائدہ اٹھا کر مملکت کے اندر گھس آئے اور آپ کی جانب کے جو سردار سرحدوں پر تھے انہوں نے حیلہ و مکر کو اختیار کیا اور اس مملکت اسلام کے برخلاف کافروں کو مدد دی ۔ لیکن تائید الٰہی سے نہ صرف سرکش اور باغی راجاؤں کو ہماری فوج نے شکست دی ، بلکه مهابت خان حاکم چندیری اور ظہیر الملک کو بھی جو بائیں دستہ کی قیادت کر رہے تھے ہلاک کردیا ۔ البتہ ملک شہ ترک نے ہماری طرف سے ذاتی اغراض کے مد نظر بیوفائی کی اور وہ بھاگ گیا، اور اس کے فرار ہوجانے سے آپ کی سپاہ کا غلبہ ہوگیا، لیکن یہ کامیابی ایسی ھی عارضی حیثیت رکھتی ھے جیسی کہ ابوسفیان کی کامیابی حضرت رسول خدا کی فوج پر خلاصه