Riyāḍ al-inshāʾ p121
Riyāḍ al-inshāʾ p121
p121
یہ مکتوب خواجہ نے محمد شاہ بہمنی کی جانب سے محمود شاہ سلطان گجرات کو لکھا ھے ۔ محبت اور اتحاد کی تمہید کے بعد مکتوب میں درج ھے کہ خان اعظم اسلام خان جو گجرات سے بطور قاصد روانہ کئے گئے تھے یہاں دربار میں پہنچ گئے ھیں ۔ جو مکتوب وہ ساتھ لائے تھے اور ان کے زبانی پیغام سے اطمینان ہوا ۔ موافقت اور دوستی کو مزید بعض ایسے سرداروں نے جن کو خواجہ نے انعام و اکرام سے سرفراز نہیں کیا تھا دربار میں یہ خبریں پھیلائی ہیں کہ خواجہ نے اپنے آدمیوں کو بھرنے میں شاہی خزانہ خالی کر دیا ھے ۔ خواجہ نے اس مکتوب میں ان خبروں کی تردید کی ھے اور داد و دہش کے متعلق اپنے اصول کو بیان کیا ھے ۔ لکھا ھے کہ خدا کے فضل سے بادشاھی خزانہ مالا مال ھے ۔ انعامات صرف انہی لوگوں کو دئے گئے ہیں جنہوں نے اس مہم میں نمایاں کام کئے ہیں ، اور جن کی ہمت افزائی نہ کرنا سرداری کی شان کے خلاف ھوتا ۔ بزدلوں اور شیردلوں کا کوئی مقابلہ نہیں اور حرص اور ھوس کا دامن بھرا نہیں جاسکتا ۔اور میں حاسدوں کی شکایت کی مطلق پروا نہیں کرتا ۔ میرا مسلک توکل ھے اور میں تائید الہی اور احسان شہنشاهی پر پورا بھروسہ رکھتا ھوں ۔