Riyāḍ al-inshāʾ p14
Riyāḍ al-inshāʾ p14
p14
گستاخی اور بد زبانی پر کوسا ھے ۔ ریاض الانشاء میں بیسیوں ایسے مکتوب ھیں جن سے محمود گاواں کی تمکنت مزاج ٹپکتی ھے۔ فرشتہ نے اپنی تاریخ میں محمود گاواں کی سیرت کو بہت سراہا ھے اور قتل کا سارا الزام محمد شاہ بہمنی کے سر تھوپ دیا ھے۔ اور واقعات کے بیان کرنے میں مبالغہ آمیز روایات پر انحصار کیا ھے ۱۔ محمود گاوان نے جو خط کوکن کی مہم سے قاضی شرف الدین کو جو صدر جہاں کے لقب سے ممتاز تھے لکھے ھیں ان سے ظاہر ھوتا ھے کہ دربار میں بادشاہ کو بہکانے کے لئے بہت سے حاسد اور دشمن موجود تھے ۔ ا یک مکتوب میں تو یہاں تک لکھا ھے سوائے ہمایوں بادشاہ (بہمنی) مرحوم کے میری گردن کسی کے احسان سے دبی ھوئی نہیں ھے ۲ ۔ جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ھے کہ محمود گاوان کچھ محمد شاہ کے برتاؤ سے بھی خوش نہ تھا ۔ خطوں میں اس قسم کے بیباکانہ جملوں سے محمود گاواں کی تمکنت صاف ظاہر ھے ۔ کیا بادشاہ کو محمود گاواں کے اس کبر و غرور کی خبر نہ پہنچائی جاتی ھوگی ۔ بادشاہ کے محمود گاواں سے ناراض ھونے کا پتہ کونڈویر کی مہم سے بھی چلتا ھے جس کو علی طباطبا نے برھان مآثر (صفحه ۱۲۶) میں تفصیل سے بیان کیا ھے ۔ اجمال یہ ھے کہ جب بادشاہ نے قلعہ کا محاصرہ کیا تو اھل قلعہ نے پناہ طلب کی اور فریاد پیش کی کہ دربار میں ایسے کار فرما ؤں کے ھاتھ میں مملکت کا انتظام ھے جنہوں نے اپنی فاسد اغراض کے مدّ نظر ھم پر نالایق حکّام کو مسلّط کردیا ھے جو نہایت ظالم اور اور سفّاک ھیں ، اور ھم نے آخر تنگ آکر اطاعت گزاری کو ترک کر دیا ھے۔ کیونکہ جو عرضیاں ھم نے روانہ کیں وہ آپ کے ملاحظہ میں پیش نہیں کی گئیں ۔ بادشاہ نے حالات سن کر مظلوموں کے گناھوں کو معاف کیا اور قلعہ کو مع مضافات ملک حسن (مابین شاہی) اور الغ اعظم نظام الملک بحری کے سپرد کردیا ۔ اور خواجہ جہان ( محمود گاواں) کی طرف سے برگشتہ خاطر ھوا او ر یہ ٹھان لی کہ خواجہ کو ختم کردے۔ علی طبا طبا نے آگے چل کر جہاں محمود گاواں کے قتل کی سازش کا ذکر کیا ھے وہاں کونڈویر کے واقعہ کو پھر دھرایا ھے اور لکھا ھے کہ کونڈویر