Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p151

Riyāḍ al-inshāʾ p151

p151

۱۱۰ ۳۳۰-۳۱ ( اوائل شوال) سلطان گیلان علاء الدولہ کے نام ھے ۔ اپنے خلوص اور عقیدت کا اظہار کیا ھے اور ریا اور نفاق اور بد باطنی سے بریت ثابت کی ھے ۔ اور یہ بھی لکھا ھے کہ اگر مجھ پر کسی قصور کا شبہ ھو گیا ھے تو وہ جلد حالات معلوم ھونے پر رفع ھو جائے گا۔ پھر یہ استدعا کی ھے کہ میرے خاندان پر حسب سابق عنایت و مرحمت رھے۔ اس غرض سے میں نے مولینا نعمت اللہ کو بھیجا ھے جو آپ کی بارگاہ کے قدیم ھوا خواہ ھیں ۔ ان کے معروضہ کو توجہ سے سنا جائے تاکہ جو جھوٹ سچ الزام میرے خاندان کے برخلاف حاسدوں نے لگا دیا ھے وہ دور ھو جائے ۔ اور عبد اللہ کے کیا تھا ۔ اور جواب میں مشرف الملک نے لکھا تھا کہ حسین دلوی چونکہ اس مملکت (بہمنی) سے تعلق رکھتا ھے اس لئے اس کے اثر کو جس طرح مصلحت سمجھیں مٹادیں ۔ اور اس عہد نامہ کی اب تک کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور دونوں مملکتوں میں اتحاد اور دوستی قائم ھے ۔ لیکن فساد پیشہ لوگ ھمیشہ یہ چاھتے ھیں کہ یہ اتفاق باقی نہ رھے اور آپس میں مخاصمت پیدا ھوجائے ۔ معاملہ کو واضح کرنے سے یہ غرض ھے کہ آپ کی جانب سے سیامیم کے عمال کے نام ایسے احکام صادر فرمائے جائیں کہ وہ اپنی ناهنجار حرکتوں سے باز رہیں ۔ ۴۶-۲۳۰ ۱۱۹ یه مکتوب کسی جلیل القدر عہده دار کو لکھا گیا ھے جو حال ھی میں وزارت کے عهدہ پر فائز ھوا ھے ۔ اس کی فراست اور شجاعت کی تعریف کی گئی ھے ۔ یہ بھی لکھا ھے کہ بعض مفسد آپ کے برخلاف ھیں ۔ لیکن آپ کی فضیلت ، آپکا تدبر اور اخلاق حمیدہ ایسے ھیں کہ دشمنوں کا کینہ اور بغض آپ کو ھرگز کسی قسم کا گزند نہ پہنچا سکیگا ۔ ۴۷-۲۳۷ ۱۲۰ (اواخر رمضان) یہ مکتوب بھی کسی وزیر کے نام ھے ۔ شوق ملاقات ظاهر کیا ھے اور لکھا ھے اگرچه بعد مسافت کی وجہ سے ملاقات نہیں هوسکتی ھے لیکن میرا دل آپ کی عنایات اور احسانات کا شکر گزار ھے ۔ میرے متعلقین پر جو لطف وکرم آپ نے فرمایا ھے اس کا حال آپ کے مکتوب سے معلوم ھوا ۔ میں خواجہ جلال الدین محمود کو بھیج رھا ھوں تاکہ دوستی اور یگانگت میں ان کی رسالت سے اور ترقی ھو ۔ امید ھے کہ نامہ و پیام سے آپ کی سلامتی اور استقامت حال ، کی کیفیت معلوم ھوتی رھیگی ۔ یہ خط گیلان یا کسی اور ایسی مملکت کے وزیر کے نام ھے جہاں خواجہ کے متعلقین موجود ھیں اور جن کی فلاح و بہبود کا خواجہ کو خیال ھے ۔ اور ان کا میری برائی کے لئے کوشش کرنا ایسا ھی بے سود ھے جیسا کہ کوئی سورج کو گوپھیئے کے پتھروں سے نقصان پہنچانا چاھے ۔ صادق القول اور صاحبِ وفا اصحاب سمجھ سکتے ھیں کہ اتحاد اور یگانگت صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتی ھے جب کہ کمینے اور غرض مند لوگوں کے کہنے سننے پر عمل نہ کیا جائے ۔