Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p152

Riyāḍ al-inshāʾ p152

p152

۱۱۸ ۳۳۸-۴۰ یہ مکتوب محمد شاہ بہمنی کی طرف سے سلطان محمود شاہ گجراتی کے نام ھے ۔ اور بعض اہم تاریخی واقعات پر مشتمل ھے ۔ مکتوب میں محمد شاہ بہمنی نے لکھا ھے کہ حال میں مهایم (بندرگاہ) کے تھانہ کے عہدہ داروں کا خط مرتضیٰ آباد کے تھانہ کے عہدہ داروں کے نام آیا ھے جس میں راجپوری کے متعلق چند ایسے بیانات درج ھیں جو سمجھ میں نہیں آتے ۔ حقیقت حال یہ ھے کہ حسین دلوی کا تعلق عرصہ سے مرتضیٰ آباد (بندر) اور مصطفیٰ آباد کے حفاظتی دستوں (حشم) سے ھے ۔ اور وہ اور اس کے قبیلہ اور جماعت کے لوگ مع متعلقہ فوج کے ہمیشہ ہماری طرف سے اس علاقہ کی مہموں کے سرکرنے میں شامل رہے ہیں ۔ مابدولت کی حکومت نے حسین دلوی کو شتاب خاں کے خطاب سے بھی سر فراز کیا ھے۔ اور یہ امر کہ راجپوری کا محل وقوع مرتضیٰ آباد اور مصطفیٰ آباد کے درمیان ھے، محتاج بیان نہیں ۔ اور راجپوری اور مھایم میں ساٹھ کوس (کروہ) کا فاصلہ حائل ھے ۔ اور دو نو مملکتوں (بہمنی اور گجرات) کے درمیان جو عہد نامے مرتب هوے تھے ان میں درج ھے کہ آپ کی طرف سے دونی اورسنگن کو ،جو باعث فساد ھیں ،مستحق سزا قرار دیا جائیگا اور اس طرف سے سنگیسر (رائے) اور حسین دلوی کو ۔ اور سید مظفر الدین نے ہماری جانب سے حقیقت حال کو واضح کے وزیر کے خط کے جواب میں ھے ۔ جس میں غالباً خواجہ کے متعلقین یا خاندان کے برخلاف کچھ شکایات درج تھیں ۔ خواجہ نے لکھا ھے کہ میرے اور میرے آباء و اجداد کو جو نسبت سلاطین گیلان سے رھی ھے اس کے متعلق اھل گیلان سے دریافت کیا جاسکتا ھے اور اگر میرے بیٹے عبد اللہ سے خطائیں سرزد ھوئی ھیں تو آپ اس کے اصلاح حال پر توجہ فرمائیں۔ پھر وزیر کو نصیحت بھی کی ھے ، کہ الله تعالیٰ نے کلام پاک میں فرمایا ھے - ”ان الله يامركم ان تودوا الامانات الى اهلها ،، - احسان کا بیج ایسی زمین میں بوؤ کہ اس کے پودے اور شجر اور پھل و پھول سے مخلوق خدا کو فراغ خاطر اور مسرت حاصل هو -