Riyāḍ al-inshāʾ p167
Riyāḍ al-inshāʾ p167
p167
۱۳۰ ٦٥-٣٦٣ (اواخر شهر رمضان، محمد آباد) یہ کسی ایسے شاہزادے کے نام ھے جو باپ سے بگڑ کر دارالخلافہ سے چلا گیا تھا ، لیکن اب واپس آگیا ھے۔ خواجہ نے اپنے مکتوب میں لکھا ھے کہ مجھے اس خبر سے بے انتہا خوشی ہوئی کہ آپ اپنے والد محترم کے فرمان کی تعمیل میں دارالخلافہ میں واپس آگئے ھیں ۔ باپ کی خوشنودی فتح و نصرت کی کنجی ھے ۔ آپ اپنے لطف الله ترخان کے آنے سے خلوصِ عقیدت ، اور حسنِ طویت ، میں اضافہ هوا ۔ جو خواجہ کے ذاتی تاثرات معلوم ہوتے ہیں ۔ ممکن ھے کہ عراق کے علاقہ کی کشتیاں ھندوستان کے تاجروں اور مسافروں کو لوٹ لیتے ھوں۔ اور بہمنی بادشاہ نے اول خواجہ کو سلطان عراق سے رسم و راہ بڑھانے کے لئے اشارہ فرمایا ھو ۔ اور بعد میں خود بھی مکتوب بھیجنے کا ارادہ رکھتا ھو ۔ اس مکتوب کا تعلق مکتوب نشان ۱۳۴ سے بھی ھے جس میں عراق اور دکن کے ایلچیوں کے نام کی تصریح ھے ۔