Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p23

Riyāḍ al-inshāʾ p23

p23

حالانکہ خواجہ کے بڑے بھائی کچھ عرصہ پہلے خواجہ سے ناراض ہوگئے تھے ، لیکن شاہ اویس گنجی کی مدد کےلئے خواجہ نے بھائی کو لکھنے سے دریغ نہ کیا ۱۔ اسی طرح سید اشرف کی مدد کے لئے جو مشہور نحوی سید شریف جرجانی کی اولاد میں سے تھے پھر اپنے بھائی کو لکھا ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں اسلامی بادشاہوں کے دربار میں علما کی بڑی قدر و منزلت تھی ۔ سلطان ابوسعید گورگاں اور سلطان محمد مرادبک ( شاہ روم) علم و فضل کے خاص سرپرست تھے ۔ چنانچہ مکتوبات سے معلوم ہوتا ھے کہ محمود گاواں کی ان بادشاہوں سے راست مراسلت تھی ، اور قاصد اور پیام آتےجاتے رہتے تھے ۲۔ محمود گاواں نے بحیثیت وزیر بہمنی بادشاہوں کی جانب سے سلطان عراق ، سلطان روم اورہندوستان کے بادشاہوں میں سلاطین گجرات ، مالوہ اور جونپور کو خط لکھے ہیں ۔ جن کی تاریخ کے طالب علم کے لئے بڑی اہمیت ھے ۳ ۔ بعض مکتوبات میں فرمانروائی اور حکومت کے سیاسی اصولوں کی تشریح کی گئی ھے۔ یہ خود خواجہ کےسیاسی نظریہ اور اس زمانہ کی عام اسلامی سیاست پر روشنی ڈالتے ہیں ۴ ۔ ایک مکتوب میں یہ بھی لکھا گیا ھے کہ مالوہ کی جانب فوج کشی کس طرف سے کی جائے ۵ ۔ اور دکن کی تاریخ اور اسلامی تہذیب اور ثقافت کے لئے تو ہر مکتوب میں کچھ نہ کچھ مسالہ موجود ھے ۔ چونکہ مکتوبات کی عبارت بہت مرصع ھے اور زبان بھی عربی آمیزش کی وجہ سے سہل نہیں ۔ اس لئے مکتوبات کا مختصر خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ھے ، تاکہ طالب علم کو وہ باتیں جو تاریخ کی کتابوں میں درج نہیں ھیں معلوم ھو جائیں ۔ اور اگر درج بھی ھیں تو ان کی توثیق ھو جائے ۔ عام طالب علم کے علاوہ تحقیق کرنے والے کے لئے بھی یہ خلاصہ مفید ہوگا ، کیونکہ ساری کتاب پڑھنے کی بجائے یہ اس کو ان مکتوبات کے مطالعہ کی طرف رہنمائی کریگا جن میں سے اس کو مطلوب معلومات حاصل کرنی ھیں ۔