Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p26

Riyāḍ al-inshāʾ p26

p26

خواجہ کو علما اور صالحین سے حقیقی انس تھا ۔ اور خود اس کے فضل و کمال اور داد و دھش نے جس کا ذکر ہم عصر مورخین نے کیا ھے ، اس کو اقصاے عالم میں مشہور کردیا ۔ شہرت کی وجہ خاندانی اعزاز اور یعنی وزارت کا جلیل القدر عہدہ بھی تھا ۔ مکتوبات سے معلوم ھوتا ھے کہ بعض جید علما کو خواجہ نے اپنے مدرسہ کے لئے جس کو بیدر میں قایم کیا تھا دکن بلایا تھا۔ ان میں جلال الدین دوانی، اور ابو بکر طہرانی کے نام قابل ذکر ھیں ۔ جلال الدین دوانی نے جب شیخ شہاب الدین سہروردی کی مشہور کتاب ھیاکل النور کی شرح الموسوم به شواكل الحور لکھی تو شرح کو محمود گاوان کے نام سے معنون کیا ۲۔ اسی طرح جب مولینا جامی نے فصوص الحکم کی شرح لکھی تو اس کا ایک نسخہ ھدیتاً خواجہ کے پاس بھیجا ۳ ۔ مراسلت سے بھی جو مولینا جامی اور خواجہ کے درمیان ھوتی تھی اور جس کے بعض مکتوبات محفوظ ھیں، علمی دنیا میں خواجہ کی عزت و وقار کا پتہ چلتا ھے ۴۔ صالحین اور بزرگ زادوں کی مدد خواہ وہ کسی مملکت میں ھوں خواجہ بڑے حوصلہ سے کرتا تھا۔ چنانچہ ایک مکتوب میں اپنے بڑے بھائی ( شہاب الدین ) کی توجہ شاہ اویس گنجی کی مصیبتوں پر دلائی ھے جو ظالموں کے ھاتھوں سے ان کو پہنچ رہی تھیں ۔