Riyāḍ al-inshāʾ p27
Riyāḍ al-inshāʾ p27
p27
کے لئے ملاحظه هو حبيب السير، جلد سوم، جزء سوم، صفحات ۴ ۲۸-۳۲ سلطان ابوسعید گورگاں کے نام ھے ۔ بادشاہ کی معدلت گستری اور جہانبانی کی تعریف کی ھے، اور فتح و نصرت کے لئے دعا دی ھے ۔ اور آخر میں التجا کی ھے کہ اس بندۂ اخلاص ،کو اپنے خاص خادموں میں تصور فرمائیں، اور سعادت نشان فرمانوں سے عزت بخشتے رہیں ۔ (سلطان ابوسعید گورگاں کے لئے ملاحظه هو حبيب السير ، جلد سوم ، جزء سوم ، صفحات ۹۶ - ۱۷۶) - ۵ ۳۳-۳۶ سلطان محمد ( مراد بک) بادشاه روم کے نام ھے ۔ سلطان کی شوکت اور قوت اور جہاں کشائی اور ملک داری کی تعریف کی ھے اور دست بوسی (تقبیل انامل بحر نایل) کی آرزو ظاهر کی ھے۔ اور آخر میں اقبال و یاوری اور طول عمر کے لئے دعا دی ھے ۔ (سلطان محمد مراد بک کے لئے، ملاحظه هو انسائیکلو پیڈیا اوف اسلام ، جلد دوم ، صفحات ۲۹ - ۷۳۸) ۔ ۶ ۳۷-۴۳ ( وسط رجب) سلطان علاء الدین شاہ گیلان کے نام ھے ۔ محمود گاواں نے ایک مکتوب میں جو ریاض الانشا میں شامل ھے ، سلطان کو یہ لکھا تھا کہ اگر میری طرف سے اب کوئی شبہ باقی نہیں رھا ھے تو میری اولاد کو جن میں عبد الله بھی شامل ھے میرے پاس بھیجدیا جائے ، بعد میں اس کو خدمت گزاری کے لئے بھیجدیا جائیگا ۔ سلطان نے شاید اس درخواست کو منظور کرلیا اور خواجه کے بیٹوں کو دکن جانے کی اجازت دیدی ۔ موجوده مکتوب میں محمود گاواں نے شاہان گیلان کی نسبت اپنے اخلاص اور عقیدت اور قدیم خاندانی تعلق کا ذکر کیا ھے ۔ اور استدعا کی ھے کہ عبد الله کو اپنے خاص ملازمین کے زمرہ میں داخل کرے اور اس کا شمار ، جمله زید و عمر و خالد و بکر ، میں نہو ۔ مکتوب کا اسلوب نہایت لجاجت آمیز ھے ۔ خود مکتوب صفحہ خلاصہ