Riyāḍ al-inshāʾ p66
Riyāḍ al-inshāʾ p66
p66
خلّاق المعانی کمال اصفھانی کےلئے ملاحظہ ھوتذکرہ دولت شاہ سمرقندی،مصححہ براؤن،صفحات ۵۳-۱۵۲،حبیب السیر جلد دوم،جزء چہارم،صفحہ ۱۹۰ ، تاریخ ادبیات ایران انگریزی متن) مؤلفہ براؤن ، جلد دوم،صفحات ۵۴-۳۵۴ - اوحدالدین انوری کے لئے دیکھئے تذکرہ دولت شاہ ، مصححہ براؤن صفحات ۸۶-۸۳، حبیب السیر جلد دوم ، جزء چہارم ، صفحات ۱۰۳-۱۰۴ ، تاریخ ادبیات ایران ( انگریزی متن) مؤلفہ براؤن ، جلد دوم ،صفحات ۳۶۵-۹۱ اور بدیع الزمان ھمدانی ابوالفضل احمد بن الحسین کےلئے ملاحظہ ھوں يتيمة الدھر،مؤلفہ ثعلبی، جلد چہارم، صفحات ۹۶ ۱۶۸ ، ۱۷۹، تاریخ ادبیات یران ( انگریزی متن) مؤلفہ براؤن جلد، دوم ، صفحات ۱۱۳-۱۱۲ - ۳۸ ۱۵۲-۵۶ یہ مکتوب مولینا جامی کے نام ھے، سنگیسر کی مہم کے دوران میں لکھا گیا ھے ، مولینا سے اس علاقہ کی فتح کےلئے باطنی تائید اور دعا چاھی ھے ۔ اور لکھا ھے کہ اس خطّہ پر اب تک کسی مسلمان بادشاہ کا قبضہ نہیں ھوا ۔ بہت سے بلند مقامات پر مستحکم قلعے ھیں ، اور اھل اسلام پرسمندر اور خشکی دونو میں لوٹ مار کی جا تی ھے ۔ پھر لکھا ھے کہ آپ کا مکّہ معظمہ جانے کا قصد ھے اگر ھندوستان کے راستہ سے جائیں تو مجھ جیسے بھٹکے ھوؤں کو ھدایت حاصل ھوجائیگی ۔ اور ذات عالم تاب کو خراسان سے ھندوستان آنے میں کسی گہن کا اندیشہ نہیں، البتہ آپ کے نور جمال سے یہ خطّہ منور ھو جائیگا ۔ مولینا نے فصوص الحکم کی شرح کا ایک نسخہ بھی خواجہ کو بھیجا تھا ۔ خواجہ نے شکریہ اداکیا ھے اور لکھا ھے کہ توحید کے متعلق جو شکوک تھے ۔ وہ اس مدد پر بھروسہ رکھے ۔ جان کی محبت اور ذاتی خواہشوں کو بھول جائے ۔ اور ہمّت اور جرأت کو اصل سعادت اور ننگ و ناموس سمجھے ۔ حقیقت یہ ھے کہ پیشانی پر شھادت کا ٹیکہ بزدلانہ زندگی کے رنگ و روغن ( گلگونه ) سے کہیں شاندار ھے۔ آخر میں لکھا ھے کہ اگر ان نصیحتوں پر عمل کیا گیا تو مجھے امید ھے کہ جلد یہ خبر سنونگا کہ تمہاری سپاہ بیجانگر ( وجیا نگر ) کے وسط میں پہنچ گئی ۔ علی کی کردار کو سمجھنے کے لئے مکتوبات نشان ۹۲ ۹۳ ، صفحات ۸۱ - ۲۸۰ ، بھی ملاحظه ھوں ۔ ۱۴۱-۵۲ ۳۷ یہ خط غالباً عبدالله کے نام ھے جو گیلان میں تھا ۔ اول بیٹے کو یقین دلایا ھے کہ یہاں ( دکن میں ) ھر چیز دلی مراد کے مطابق ھے اور دشمن اور حاسد ذلیل و خوار ھیں ۔ پھر بیٹے کو نصیحت کی ھے تم بھی سکون قلب رکھو اور توکّل اور بارگاہ ایزدی میں عجز و نیاز اختیار کر کے دشمنوں پر غالب رھو ۔ میں نے جو لامیہ قصیدہ کمال الدین اصفهانی کے قصیدہ کے جواب میں لکھا تھا اور دو قصیدے جو بادشاہ ( محمد شاہ بهمنی) کی مدح میں انوری اور بدیع الزماں همدانی کے قصیدوں کے طرز میں مرتّب کئے تھے ، ان کی نقول تمہارے التماس کے بموجب بھیج رھا ھوں ۔ پہلے قصیدہ میں محمود گاواں نے کمال اصفهانی پر اس طرح اپنا تفوق جتایا ھے۔ از نور آتش طبع و ز چربی زبانم مصباح نظم و نثرم روشن کند محافل گر شد کمال در شعر بے مثل لیک نبود در فضل و علم و دانش این بنده را مماثل ھے ۔ ایک سو بیس جہاز تسخیر کے لئے بحری راستہ سے روانہ کئے گئے، اور میں خود ایک جرار فوج کے ساتھ خشکی کے راستہ سے حملہ آور ھوا اورگووا کا سرسبز اور خوش منظر جزیره ۲۰ - شعبان کو فتح ھوگیا ۔ اب ھنور کی بندرگاہ تک بڑھنے کا قصد ھے، اور پھر محمد آباد ( بیدر ) واپس چلا جاونگا ۔ بعد میں لکھا ھے کہ اس سال کچھ تحایف بطور ھدیہ اور اپنے قاصد بھیج رھا ھوں تاکہ وہ واقعات بیان کردیں اور آئندہ سال عبد اللہ کو روانہ کرونگا ۔ امید ھے اس کی تربیت میں وہی توجہ اور شفقت رھیگی جو همیشه اس خاندان کے افراد پر مبذول رھی ھے ۔ کوکن کی مہم کےلئے فرشتہ ( انگریزی ترجمه برگز ، جلد دوم ، صفحات ۸۷ - ۸۵) اور برهان مآثر ( طبع مجلس مخطوطات فارسیه، صفحات ۱۶ - ۱۱۴) سلاحظه فرمائیے ۔ اس مکتوب میں تاریخیں اور حالات زیادہ وضاحت سے درج ھیں ۔