Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p83

Riyāḍ al-inshāʾ p83

p83

۵۴ ۱۹۳-۱۹۸ سلطان علاء الدین گیلانی کے نام ھے ۔ خواجہ نے رمضان میں ایک عریضہ سلطان کی خدمت میں بھیجا تھا جس میں کوہ دم کے باغیوں کی شرارت کی وجہ سے رشت کی مملکت میں جو تغیر ھوگیا تھا اس پر افسوس ظاہر کیا تھا ۔ اب جو اس علاقہ کی فتح اور دشمنوں کی سرکوبی کی خبریں آئیں ، تو خواجہ نے بے حد مسرت کا اظہار کیا ھے اور بادشاہ کو نصیحت کی ھے کہ پڑوس کے سرداروں کے مکر و بیوفائی سے ھمیشہ ھوشیار رہیں ، اور اھل رائے سے مشورہ کرتے رہیں ۔ پھر اپنے بارے میں لکھا ھے کہ اس سال میں اس لئے فوج کشی نہ کرسکا کیونکہ مجھے سلطنت کی حدود کا تعین کرنا ھے اور بعض اور اہم مسائل بھی طے کرنے ھیں ۔ لیکن میں نے اپنے بیٹے ( علی ) کو جسے بہمنی بادشاہ نے ملک التجار کے خطاب سے سرفراز فرمایا ھے ۵۸ ۲۰۸-۱۰ مولینا جامی کے نام ھے تشریف لانے ، شرف دیدار اور ہدایت حاصل کرنے کی عقیدتمندانہ آرزو ظاہر کی ھے ۔ اس مکتوب سے اس ارادت کا بھی پتہ چلتا ھے جو خواجہ کو طلب حق میں بزرگان دین سے تھی ۔