Riyāḍ al-inshāʾ p10
Riyāḍ al-inshāʾ p10
p10
محمود گاواں کے مکتوبات پر جب مجموعی طور سے نظر ڈالی جاتی ہے۔ تو اس کے اسلوب بیان میں ادبی مٹھاس کی بجائے علمیت زیادہ محسوس ھوتی ھے۔ لیکن اس کی قادر الکلامی میں کوئی شک نہیں ۔ اس کی ذہنی قوت ، سیاسی استعداد اور وسیع علم و دانش ایسے اوصاف تھے جن کی وجہ سے بڑے بڑے بادشاہ اپنے دربار میں محمود گاواں کو رکھنا چا ھتے تھے ۔ لیکن طبیعت میں کچھ ایسی ضد اور خود پرستی (جذبۂ انانیت) تھا جس کی وجہ سے نہ گیلان کے بادشاہ سے نبھی اور وطن مالوف کو خیر باد کہنا پڑا ۔ نہ بہمنی دربار میں اطمینان خاطر رها اور آخر اپنی جان گنوادی ۔ بڑے بھائی ، بھتیجوں اور رشتہ داروں سے بھی غالباً اس بری خصلت کی بدولت ان بن ھوئی ، یہاں تک بیٹوں سے بھی شکر رنجی رھی ۱ ۔ چنانچہ علی کو جیسے بہمنی دربار سے ملك التجار کا خطاب مل گیا تھا