Riyāḍ al-inshāʾ p11
Riyāḍ al-inshāʾ p11
p11
محمود گاداں نے جو خط اپنے بھتیجے برهان الدین ابراهیم کے نام لکھا ھے اس میں بہار کے رنگ کو ملاحظہ فرمائیے ، تمهید پیش ھے ۔ تا شهر یار نامیه در مصاف بهار از پیکان غنچه و سنان خار و ناچخ بنفشه و کوپال گلنار و خود نیلوفر و سپر گل و خنجر گل چنبه و جعبه سنبل آلات پیکار و ادوات کارزار مرتب می دارد - و دست چنار بدعای فتحش سوی آسمان کشاده است ، و صفوف اشجار در موافقت جوئبار باقدام خدمت ایستاده ، همواره ازهار آمال بر شجر بال آن فرزند رشد مثال ، مجد ما ل منتج اثمار حصول مراد و موجب ترویح مشام فواد باد الخ (مکتوب ۸۷ - صفحه ۲۶۴) اس تمهید میں بہار کی لوازمات کے ساتھ اسلحہ جنگ کو بھی وابستہ کر دیا گیا ھے تاکہ عبارت میں رزمیہ رنگ بھی رھے ۔ ہر مکتوب کے شروع میں اس کے مضمون کے لحاظ سے ایک تمهید ھے ۔ جس میں ذھن کے مرصع کار نے قرآن و احادیث ، الهیات و فلسفه ، نجوم و ریاضیات ، شعر و سخن ، معانی و بیان ، جغرافیه و تاریخ ، حیوانیات و طبیعیات مناظر قدرت اور واقعات زندگی کے جواھر پاروں کو ایک دلکش انداز میں ترتیب دیا ھے ۔ یہ رنگ محمود گاواں کا مخصوص رنگ نہیں ھے۔ بیسیوں انشا کی کتابیں اسی مرصع کاری سے بھری پڑی ہیں ۔ اور انشاء کو چھوڑ کر تاریخ اور قصص کی کتابیں بھی دیکھیں تو یہ آراستہ تمہیدیں ھم کو ھر باب کے شروع میں نظر آتی ھیں۔ جہاں علم و فضل کی نمائش زیادہ ھے وہاں عبارتیں اور زیادہ مُعَلَّق هیں ـ لیکن جن مصنفین کا ادبی ذوق شستہ ھے انہوں نے معانی کو نمایاں رکھنے کی کوشش کی ھے اور عبارت کو گورکھ دھندا نہیں بنایا ۔ 'ریاض الانشا' میں بھی علم و فضل کی آرائش کے اندر مطالب کے چہرے صاف اور روشن ھیں ۔ زبان میں عربی آمیزش بہت زیادہ ھے ۔ لیکن اسلوب بیان اور انداز خیال خالص عجمی ھے ۔ اس زمانہ کا خود عربی ادب اس عجمی مرصع کاری کا شکار بن گیا تھا ، اور فرات اور دجلہ کے کنارے اپنی سادگی اور ابتدائی زور کھو بیٹھا تھا ۔ محمود گاواں نے 'ریاض الانشا' کے دیباچہ میں اپنی تحریر کی مقبولیت کا ذکر کیا ھے۔ اور یہ بھی لکھا ھے کہ میرے مضامین خود میری ذهنی کاوش اور ادبی ذوق کے پھل ہیں اور کسی اور مصنف کے علمی مال و متاع کی چوری نہیں ۔ محمود گاواں نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ھے ۔ کے رہنے والوں کی شکایت سے چونکہ بادشاہ خواجہ جہاں کی طرف سے بد دل ہوگیا تھا ، اس لئے جو جعلی تحریر خواجہ جہاں کی نمک حرامی کے بارے میں اس کے دشمنوں نے بادشاہ کے ملاحظہ میں پیش کی اس کو بادشاہ نے صحیح سمجھا اور وزیر کے قتل کا مصمم ارادہ کرلیا ۔ سخاوی نے جو محمود گاوان کے قتل کے اسباب بیان کئے ہیں ان میں مزید وضاحت موجود ھے کہ محمود گاوان بادشاہ کے کام میں دخل در معقول کرتا تھا اور اس کے اختیارات کو محدود کردیا تھا، اس لئے بادشاہ کو خواجہ سے نفرت ہوگئی تھی ۱۔