Riyāḍ al-inshāʾ p101
Riyāḍ al-inshāʾ p101
p101
۷۳ ۴۳-۲۴۲ گجرات کے ایلچی اسلام خاں کے مکتوب کا جواب ھے۔ خواجہ ابھی تک کوکن کی مہم سے فارغ نہیں ھوا تھا ۔ خلاصه کے لڑنے میں تیار ھو گیا کہ رینگنہ کا قلعه حوالہ کردیا جائے بارہ لاکھ نقد یا مال کی صورت میں ادا کئے جائیں ، اور جاکو کا بیٹا بطور پابندی شرائط بھیج دیا جائے ۔ لیکن جب غنیم نے دیکھا کہ رینگنہ کا قلعہ اگر سونپ دیا گیا تو گوووا اور رینگنہ کے علاقے کی پیادہ سپاہ اور کرھر اور چاکنہ کی سوار فوج کے ھجوم سے سنگیسر تو کیا بیجا نگر کی مملکت کا بڑا حصہ مسخر ہوجائیگا ، تو جو شرائط پیش کی تھیں ان پر پچھتائے اور میرے دل میں جو شبہات مفسدین کی طرف سے تھے وہ صحیح نکلے ۔ جن کا ذکر میں بادشاہ سلامت کی خدمت میں جب حاضر ہونگا عرض کرونگا ۔ اب برسات کے موسم میں اس علاقہ میں اس غرض سے ٹھیر گیا ھوں کہ غلّہ اور کپڑے کی رسد بالکل بند ھو جائے، اور دشمن کی جو فوج اس نواح میں پڑی ھوئی ھے خوشی سے یا مجبوراً میری اطاعت قبول کرلے ۔ اور فوج کی کمی اور رسد کے نہ پہنچنے سے دشمن کا زور ٹوٹ جائے ۔ اور بادشاہ سلامت کی عظمت اور قوت اور میری کوشش تاریخ میں یادگار رہ جائے ۔