Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p12

Riyāḍ al-inshāʾ p12

p12

سخاوی نے جعلی مکتوب کا ذکر نہیں کیا ۔ لیکن بادشاہ کے بر خلاف بغاوت کے جھوٹے الزام او ر امراء کی سازش کا ذکر کیا ھے۔ فرشتہ او ر علی طباطبا دونو جعلی مکتوب کا ذکر کرتے ہیں، جو نرسنگ رائے کے نام لکھا گیا تھا۔ سخاوی محمود گاواں کا ھم عصر تھا اور علی طبا طبا اور فرشتہ سو سوا سو برس کے بعد کے مؤرخ ۔ چونکہ نرسنگ رائے سے سازش کا جھوٹا الزام جعلی مکتوب میں درج تھا، اور بادشاہ کے برخلاف بغاوت کا الزام بھی نرسنگ رائے کی سرکوبی کی مہم کی ضمن میں بیان کیا گیا ھے ، اس لئے بغاوت کی زبانی جھوٹی خبر کا سو سوا سو برس میں جعلی مکتوب بن جا نا کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ یہ امر البتہ علی طبا طبا اور سخاوی دونو کے بیانات سے واضح ھے ، کہ بادشاہ خواجہ سے اس کی تمکنت کی وجہ سے پہلے ہی سے ناراض تھا ، اور جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ھوں یہ تمکنت اس کے مکتوبات سے بھی جو خواجہ کی زندگی کے واقعات سے متعلق ہیں عیاں ھے ۔ اس لئے قتل کے اسباب بیان کرنے میں جہاں دربار کے امراء کی سازش بیان کرنی ضروری ھے وھاں خواجہ کی تمکنت کا اظہار بھی لازمی ھے ۔ کیونکہ اسی خصلت نے سلطان علاءالدین گیلانی کو خواجہ سے برگشتہ خاطر کیا اور اسی خصلت نے محمد شاہ بہمنی کو ایسا بد دل کیا کہ آخر اس نے خواجہ کو ختم کردیا ۔