Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p129

Riyāḍ al-inshāʾ p129

p129

۹۵-۹۷ ۲۸۷-۸۸ - ادیب اور شعراء اپنے فن کا کمال دکھانے کے لئے دوسرے ادیبوں اور شعراء کے نظم و نثر کے مضامین اور عنوانوں پر طبع آزمائی کرتے تھے اور اہل ذوق داد دیتے تھے ۔ چنانچہ بیسیوں مثنویاں ، قصائد ، غزلیں اور قصے قدما کے رنگ میں بعد کے شعراء اور ادیبوں نے لکھے ھیں ۔ ان تینوں مختصر مکتوبوں ( ۹۷-۹۵) میں بھی خواجہ نے ان مکتوبات کے مضامین اور عبارت آرائی کا مقابلہ کیا ھے جو خواجہ شمس الدین نے اپنے فاضل بھائی خواجہ علاءالدین کو لکھے تھے اور جس میں مختلف صنایع اور بدایع کے ساتھ شوق ملاقات ظاہر کیا گیا تھا ۔ پہلے خط میں بہاریہ رنگ اور اجرام فلکی کا تلازمہ ھے ۔ دوسرے مکتوب میں بھی کم و بیش یہی رنگ ھے لیکن خوشبوؤں اور فرحت آمیز ہواؤں کا اور اضافہ کردیا گیا ھے ۔ تیسرے میں بزمیہ رنگ زیادہ واضح ھے اور ترنم بلبل کے ساتھ غانیات حور صورت کا بھی ذکر ھے ۔