Riyāḍ al-inshāʾ p170
Riyāḍ al-inshāʾ p170
p170
۱۳۸ ۳۸۴-۸۶ یه خط بھی گیلان کے اسی شاهزاده کے نام ھے ۔ لکھا ھے کہ باپ کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب لهراسپ اور گستاسپ کو پہنچتا ھے اور ماں کی (طرف دیگر) جانب سے قابوس اور تیجاسپ تک ۔ اس طرح سے آپ مملکت محمد شروانی اور شیخ محمد احمد کا بطور ایلچی روانہ کیا جانا بیان کیا گیا ہے ۔ ان واقعات سے گمان ہوتا ہے کہ مکتوب سلطان حسین بیگ کو لکھا گیا ہو ۔ جس کا دربار بھی علم اور علماء کی سر پرستی کے لئے اس زمانہ میں ممتاز تھا ۔ مکتوب میں خواجہ نے اپنی عقیدت مندی کا اظہار کیا ھے اور بادشاہ کے جاہ و جلال کی ترقی کے لئے دعادی ہے ۔ سلطان حسین بیگ کو جو خط خواجہ نے علانیہ لکھا ھے اس کے لئے ملاحظہ ھو مکتوب ۱۳۵ ، صفحات ۸۰-۳۷۸ - ۱۳۴ ۳۷۶-۷۷ یه مکتوب عربی میں ھے اور خواجہ نے غالباً سلطان عراق کی طرف سے سلطان مصر کے نام لکھا ھے ۔ کیونکہ آشتی اور اتحاد کی تمہید میں جو دریائے نیل اور فرات اور شط العرب کا تلازمہ رکھا گیا ہے اس سے یہ گمان پیدا ہوتا ھے ۔ فرات اور شط العرب کو عراق سے وہی تعلق ھے جو نیل کو مصر سے ۔ مکتوب میں حافظ عبید الله کے بطور ایلچی بھیجے جانے کا بھی ذکر ھے ۔ یہ بھی لکھا ھے کہ بعد مسافت ، دوستی اور محبت کی ترقی کی راہ میں حایل نہو گی ۔ ۱۳۵ ۳۷۸-۸۰ اس مکتوب کے عنوان میں یہ درج ہے کہ یہ خط خواجه نے سلطان ( بہمنی ؟) کے فرمانے سے سلطان حسین بیگ شاہ عراق کو لکھا تھا ۔ لیکن مضمون میں کوئی ایسی بات درج نہیں ھے جس سے دو بادشاہوں یا دو مملکتوں کے درمیان اتحاد اور دوستی قائم کرنے کی بناء معلوم هوسکے ۔ تا هم خط میں خواجہ لطف الله ترخان کے عراق سے بطور ایلچی آنے کا ذکر ھے ۔ اور دکن سے خواجہ شمس الدین شروانی اور مولینا شیخ احمد خنجی کا بھیجا جانا درج ھے ۔ اور غرض یه بیان کی گئی ھے کہ محبت اور موافقت میں ترقی هو ـ لیکن ساتھ ھی خواجہ نے یہ بھی لکھا ھے کہ رفع ہوگئے ۔ مجھے امید ھے کہ آپ کے ھاں بیٹا ھونے کی خوشخبری مجھے جلد ملیگی ۔ آخر میں عمر اور اقبال کی ترقی کی دعا دی ھے ۔