Riyāḍ al-inshāʾ p39
Riyāḍ al-inshāʾ p39
p39
( محمد آباد ، اوایل شعبان) یه مکتوب بھی سلطان علاء الدین شاه گیلان کے نام ھے ، اور پہلے مکتوب کے بعد لکھا گیا ھے ۔ معلوم به هوتا ھے کہ جو رسل و رسائل گیلان سے خواجہ کے پاس آتے تھے ان سے بعض اوقات بادشاہ کی طرف سے مطمئن ہو جاتا تھا اور بعض اوقات پھر شک میں پڑ جاتا تھا ۔ پہلا خط جو وسط رجب میں لکھا تھا اس وقت محمود گاوان شاید عبد الله کو روانه نه کرسکا ، اس لئے اس کی روانگی کے متعلق یہ دوسرا مکتوب لکھا ۔ اس مکتوب میں خواجہ نے شاهان گیلان کے احسانات کا اعتراف کیا ھے ، جو خود اس پر اور اس کے آباء و اجداد پر کئے گئے ھیں ۔ پھر اپنے حرمان و حسرت کا اظہار کیا ھے کہ کہیں ایسا نہو کہ حصول لقا، سے پہلے داعی اجل کو لبیک کہنا پڑے ۔ ایسے حالات کے مدّ نظر اپنے بیٹے عبدالله کے روانه گجرات سے بطور قاصد آیا تھا ۔ مکتوب میں درج ھے، اتفاق ویگانگت کی اس کے مواجہ میں توثیق کی گئی اور عہد نامہ پر کلام پاک کی بھی شہادت پیش کردی گئی۔ افواج کو فتح آباد ( دولت آباد ؟ ) اور آسیر کی جانب محمود خلجی ( شاہ مالوہ) کے قلع قمع کے لئے بھیجدیا گیا ھے ۔ اگر گجرات کی فوج بھی آسیر کی سرحد پر پہنچ جائے تو دشمن کو شکست فاش ہوجائیگی اور ہماری سلطنتوں کا اتحاد سب کو معلوم هو جائیگا ۔ دشمن کو تباہ کرنے کے لئے جو تدابیر اختیار کی جانے والی هیں ، ان کی تفصیلی کیفیت خان اعظم تیمور خاں کی زبانی معلوم ھوگی جن کو بطور ایلچی بھیجا جا رھا ھے ۔