Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p41

Riyāḍ al-inshāʾ p41

p41

ان قلعوں کی فتح سے خواجہ کو بے حد خوشی ھوئی هوگی ۔ اور اپنے اس کارنامہ کا ذکر خواجہ نے سلطان گیلان کے خط میں اس لئے کیا ھے کہ وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھتا تھا ۔ ا ن قلعوں کی فتح کا ذکر ا و ر خواجہ کے خاندان کے افراد کی جانب سے پیدا ہو گئے تھے ان کو رفع کرنے کی کوشش کی تھی، اور خواجہ کو لکھا تھا کہ گیلان کے ایلچی تمہارے بھتیجے شمس الدین شیخ محمد کو لینے آئے تھے لیکن تمہاری چونکہ مرضی نہ تھی اس لئے شیخ محمد کو گیلان نہ بھیجا گیا اور ایلچیوں کو واپس کردیا ۔ خواجہ نے مولینا یزدی کی عنایت کا شکریہ ادا کیا ھے ، اور لکھا ھے کہ سلطان محمد کی ملازمت اگرچہ ہما را خاندانی ورثہ ھے ، لیکن اس وقت چونکہ حکومت حاجی محمد سپہ سالار اور شیخ علی دبیر اور وزیر کے اختیار میں ھے ، اور سلطان ان کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنا ہوا ھے، اس لئے خود مجھے اس سر زمین سے باہر نکلنا پڑا ۔ مکتوب میں خواجہ نے حاجی محمد اور شیخ علی پر اپنے احسانات کا بھی ذکر کیا ھے، اور یہ بھی لکھا ھے کہ میرے بھائی ( شہاب الدین ) نے ان کے مکر کو ابتدا میں نہ سمجھا لیکن آخر میں جب حقیقت معلوم ہوئی تو وہ مکہ معظمہ چلے گئے، اور اپنے بیٹے خواجہ شمس الدین شیخ محمد کو وطن میں چھوڑ گئے ۔ خواجہ شمس الدین کو بھی جب ان دونو شریروں نے تنگ کرنا شروع کیا اور افترا اور بہتان سے سلطان کو شمس الدین کی طرف سے بدظن کردیا تو وہ بھی وطن سے بھاگ نکلے۔ مکتوب کے آخر میں خواجہ نے مولینا یزدی کی عنایت کا شکریہ ادا کیا ھے کہ انہوں نے سلطان گیلان اور دربار کے امراء کی بدگمانی کو دلائل اور حقیقی واقعات کے انکشاف سے رفع کر دیا ھے ۔ ( شرف الدین علی یزدی ( وفات ۸۵۸ ) کے حالات کے لئے ملاحظه هو حبيب السير، بلد سوم ، جزء سوم ، صفحه ۱۴۸ )