Riyāḍ al-inshāʾ p48
Riyāḍ al-inshāʾ p48
p48
۱۶ ۸۳-۸۷ اپنے بھتیجے عمید الملک کے نام ھے ۔ محمود خلجی سلطان مالوہ کے حملے کی مدا فعت کے لئے اول اپنی فتح آباد (موقوعہ خاندیس ؟ ) اور ملک یوسف ترک (المخاطب به نظام الملک) کی ماھور میں تعیناتی کا ذکر کیا ھے ۔ پھر گھیر لہ کی جنگ کا ال درج ھے کہ کس طرح سراج الملک (سردار افواج مالوہ ) کو مع اهل و عیال اور تیئیس ھاتھیوں کے گرفتار کرلیا اور دشمن کے تقریباً پانچ هزار سوار و پیادے مارے گئے ۔ پھر نظام الملک کے قتل کا واقعہ درج ھے، کہ ایک ہندو سردار جس کے اهل و عیال قید ھوگئے تھے ، تو عہد نامہ مرتب کرلیا جائے، اور اگر کوئی مکر اور حیلہ نظر آئے تو فوراً واپس آجائیں ۔ چونکہ گجرات اور دکن کی مملکتوں میں خدا کے فضل سے اتحاد اور یگانگت قائم ھے اس لئے آپ کو ان تمام امور کی اطلاع دینی ضروری سمجھی گئی ۔ فرشتہ (ترجمہ برگس، جلد دوم، صفحات ۸۳-۲۸۱) اور برھانِ مآثر ( صفحات ۱۱۰-۱۱۱، اشاعت مجلس مخطوطات فارسیہ) میں مالوہ کے سفیر اور صلح نامہ کی شرائط کا ذکر ھے ۔ لیکن اس مکتوب میں ایلچیوں کے نام اور صلح کی وجوہ زیادہ وضاحت سے بیان کی گئیں ھیں ۔