Riyāḍ al-inshāʾ p49
Riyāḍ al-inshāʾ p49
p49
۱۹ ۹۵-۹۶ یہ مکتوب شیخ داؤد ( ایلچی سلطان مالوہ ) کے خط کے جواب میں ھے ۔ جو غالباً قاضی لادن اور اسحق طاهر كى سفارت سے پہلے لکھا گیا تھا ۔ خواجہ کے مکتوب سے معلوم ہوتا ھے کہ شیخ داؤد نے اپنے خط میں بہمنی خاندان کے بادشاہوں کی تحقیر کی تھی اور ان کی جنگی قوّت کا مضحکہ اڑایا تھا۔ خواجہ نے اس مکتوب میں شیخ داؤد کو کھری کھری سنائی ھیں ۔ مالوہ کے خلجی بادشاہوں کی غداری کا ذکر کیا ھے کہ کس طرح نظام شاہ بہمنی مرحوم کے زمانہ میں جب مالوہ کے ایلچی آئے تو ان کی خاطر مدارات کی گئی اور یہاں سے قاصد بھیجے گئے تو ان سے بد سلوکی کی گئی اور اوباشوں کی باتوں پر اعتبار کیا گیا ۔ پھر لکھا ھے کہ اگر صلح کا حقیقی ارادہ ھے تو برسات کے شروع ہونے سے پہلے مجھے اطلاع دیدی جائے تاکہ میں عہدنامہ کی شرائط کے طے کرنے میں کوشش کروں ۔ ورنہ ہمارے بہادروں کی تلواریں اور نیزے اور گرز اور تبر اس سارے غرور اور تکبّر کو خلجی سپاہیوں اور سرداروں کے سر سے نکال دینگے جو ان کے دماغ میں بھرے ہوئے ھیں