Riyāḍ al-inshāʾ p58
Riyāḍ al-inshāʾ p58
p58
۲۹ ۱۲۱-۲۲ عمدةالملک(عمیدالملک) نے خواجہ کو کسی واقعہ پر تعزیت کا خط لکھا تھا اور رینگنا کی فتح پر مبارکباد دی تھی ۔ خواجہ نے جواب میں لکھا ھے کہ آپ کی همدردی سے دل کو تسلی حاصل ھوئی ۔ رینگنا کی فتح سے اب کھیلنا بھی فتح هوجائیگا اور اس علاقے میں جتنے قلعے ھیں اور ملیبار کی جتنی بندرگاهیں وہ بھی فتح هو جائینگی ، اور گووا کے جزیرہ کی فتح کی تو اسی مہینے میں امیدھے ۔ ۲۳ ۱۱۴-۱۱۶ یہ مکتوب غالباً گجرات کے وزیر کے نام هے ـ جس نے محمود گاوان کو جونپور کے سفیروں کی خاطر مدارت کے لئے لکھا تھا، اور اپنے خط کے همراه سلطان گجرات کا بھی مکتوب بھیجا تھا ۔ محمود گاواں نے جواب میں لکھا هے ، آپ کے ارشاد کے مطابق سفیروں کی خاطر مدارت کی گئی هے ، اور سلطان حسین شاه ( شاه جونپور ) کے نام محمد شاه بہمنی کی طرف سے مکتوب روانه کر دیا گیا هے ۔ میں اس وقت گوھر کی ولایت کے قریب فوج کا انتظام کر رها هوں ـ اس مہینے کے آخر تک تمام سپاه جمع ھو جائیگی ۔ اور جمادی الآخر کے اول میں سنگیسر میں داخل ھوکر جیسی مرضی الٰہی ھوگی کار روائی شروع کر دونگا ۔ اور کشتیاں اور جہاز چیول اور دابل ( وابل ) کی بندرگاہوں سے بھی سپاہ اور جنگی سامان لیکر سنگیسر کے قلعوں اور علاقوں پر اس طرح حملہ آور ھونگے که جلد فتح ھو جائیگی ـ سید عماد الدین میرے همراه هیں اور جو تدابیر کہ اختیار کی جارھی ھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے ھیں ۔ آخر میں خواجه نے وزیر گجرات (؟) کو مراسلت کے جاری رکھنے اور دوستی و اتحاد کے بڑھانے کے لئے لکھا ہے ۔ سید عماد الدین غالباً گجرات کے دربار سے تعلق رکھتے تھے ۔ سنگیسر کی مہم کا ذکر متعدد مکتوبات میں درج ھے ( ملاحظه هو ن مکتوبات ۲۰ ۱۱۶ اپنے کسی رشته دار کو لکھا هے کہ میرا دل بغض اور کینه سے پاک ھے ۔ اور رشتہ داروں کی محبت میری فطرت میں داخل ھے۔ اور میں چاهتا هوں کہ میری اولاد بھی اس بارے میں میری تقلید کرے ۔ آپ جیسے سلیم الطبع اور فیض رساں عزیز کے برخلاف میرے دل میں کس طرح کوئی برا جذبه پیدا هو سکتا ھے ۔ ۳۲ ۱۲۵-۲۹ ( اوائل محرم ، محمد آباد بیدر ) یه مکتوب محمود شاه وزیر سلطان روم کے خط کے جواب میں ھے۔ خواجه نے دونو سلطنتوں میں دوستی اور اتحاد کی ترقی پر خوشی ظاهر کی ھے اور محمود شاہ کا شکریه ادا کیا ھے، کہ آپ بہمنی سفیروں اور قاصدوں کی جو خاطر مدارات فرمارھے ھیں وہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کی دلیل ھے ۔ پھر رسل و رسائل کےسلسله کو جاری رکھنے کی تمنا ظاهر کی ھے، اور آخر میں لکھا ھے کہ هند اور روم کی مملکتوں میں اگرچه فاصله بهت ھے، لیکن رومی کاغذ (بیاض) اور هندی سیاھی کا باهمی تعلق انشاالله دلی قربت پیدا کردیگا ۔ اس مکتوب میں خواجه نے محمود شاہ کے اعجاز قلم کی طرف بھی ان الفاظ میں اشاره کیا ھے۔ ” بقلم عصا صورت ثعبان سیرت موسوی دعوی سحره مصر بلاغت را یکسره باطل نمایند ۔ ،، ۳۳ ۱۲۹-۱۳۱ یه خط خواجه نے اپنے بیٹے عبدالله کو لکھا ھے جو گیلان سے ھندوستان آیا ھے اور دابل کی بندرگاہ پر اترا ھے۔ خواجه نے اس کی سلامتی اور عافیت پر والہانه خوشی ظاهر کی ھے، اور لکھا ھے کہ جلد میرے پاس آجاؤ ۔ پھر جوفرمان بہمنی بادشاہ نے عبد الله کے نام صادر کیا تھا، اور جس کے ساتھ خلعت بھی بھیجا تھا خواجه نے لکھا ھے کہ اس کا استقبال کرنا اور تمہاری جو آرزوئیں ھیں وہ جلد پوری هو جائیں گی ۔ خواجه نے سلطان گیلان کو لکھا تها که میرے بیٹے جو وہاں رہ گئے ھیں ان کو میرے پاس بھیجدیا جائے ان میں سے جو خدمت کے لائق ھوگا اس کو گیلان بھیجدونگا (ملاحظه هوں مکتوبات نشان ۶ و ۲۱) ۔ معلوم ھوتا ھے کہ عبدالله کا باپ کے پاس آنا سلطان گیلان کی اجازت سے ھوا ھے۔ ۳۴ ۱۳۱-۳۳ یه مکتوب خواجه نے صدر بن كبير ( المخاطب بشرف الملک) وزیر مالوه کو اس کے خط کے جواب میں لکھا ھے۔