Riyāḍ al-inshāʾ p62
Riyāḍ al-inshāʾ p62
p62
۱۲۴ ۳۱ سید مهدی تبریزی کے مکتوب کا جواب ہے ۔ مولینا تبریزی نے اپنا کلام خواجہ کو بھیجا تھا ۔ خواجہ نے اشعار کی تعریف لکھی ہے اور تبریزی کی صحت و عافیت کے لئے دعا کی ھے۔ ۳۶ ۱۳۶-۴۱ یه خط خواجه نے تادیبی انداز میں اپنے بڑے بیٹے علی کو لکھا ھے۔ بہمنی سلطان نے اسے ملک التجار کا خطاب عطا فرمایا تھا اور وجیا نگر کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ بیٹے کی لغزشیں باپ کے کان تک پہنچی ھیں چنانچه اس نے نو نصیحتیں کی ھیں جو حسب ذیل ھیں ۔ (۱) شمایل پسندیدہ اور صفات حمیدہ کا جامع رھے۔ (۲) مقاصد کی طلب میں همیشه عواقب امور پر نظر رکھے ۔ اور باپ اور دادا کی دوررس نگاه پر کاربند هو - (۳) چھوٹے اور بڑے امرا اور سورما سرداروں کے اعزاز کا خیال رکھے ان کی دلجوئی کرتا رھے اور ملول نه هونے دے (۴) عفو اور سیاست میں تدبر برتے اور افراط تفریط نہونے پائے اور ھر عمل خوش اسلوبی سے ہو۔ (۵) ایسے افراد جو صاحب عقل و دانش ھیں اور جن کے اثر اور فراست اور گفتگو سے فتنہ و فساد رفع هو سکتا هے ان پر همیشه نوازش رکھے اور ان کے مقاصد کو پورا کرتا رھے (۶) ایسے افراد کی صحبت سے گریز کرے جو اخلاق اور شمایل حمیدہ سے عاری ھوں اور جن کے ادراک و فہم سے معاملات کی گنجھٹیاں نہ سلجھ سکین۔۔ (۷) ملک و رعایا کو ظالموں کی زیادتی سے محفوظ رکھے ۔ (۸) فوجی عهدہ داروں اور رؤسا کی تنخواھوں ، راتبوں اور معاشوں کی اجرائی میں هرگز سستی اور لاپروائی نہ برتے ۔ تا که متعلقه جمعیت ، سوار و پیاده ، خوش دل رھے۔ اور لشکر کے عہدہ داروں اور سرداروں سے ایسے کام نہ لے جو ان کی بساط سے باھر ھوں اور جس سے وہ تنگ آجائیں ۔ (۸) معاملات کو سلجھانے اور مہمات کے سر کرنے میں خود غور و فکر اور تدبیر کرے ۔ اور بعجز و نیاز خدا تعالیٰ سے طالب توفیق اور مدد هو - اور جب کوئی تدبیر ذهن میں آئے تو معرکہ آرائی سے قبل تجربه کار بڈھوں اور روشن ضمیر جوانوں سے بھی مشورہ کرے ۔ (۹) جب میدان جنگ میں قدم رکھے الله کی صدر بن کبیر نے بہمنی ایلچیوں کے پہنچنے کا ذکر کیا تھا کہ قاضی احمد اور سید محمود کو میں شادی آباد (مانڈو) میں چھوڑ آیا ھوں اور خود سارنگ پور جہاں آج کل بادشاه (محمود شاہ خلجی) مقیم ھے جارھا ھوں ۔ صدر بن کبیر نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ کی (خواجہ کی) حسن نیت اور صفائی باطن کو میں بادشاہ کے ذھن نشین کر چکا ھوں ۔ خواجہ نے اس عیارانہ چاپلوسی کا اپنے مکتوب میں نہایت لطیف پیرایہ میں جواب دیا ھے۔ اور لکھا ھے کہ یہ عاجز ابھی تک دنیا کے جھگڑوں میں گھرا ھوا ھے اور فکر عقبیٰ سے غافل ھے ۔ اور کسی تعریف اور توصیف کا اھل نہیں ۔ لیکن اپنے ولی نعمت (بہمنی باد شاہ) کی خدمت گزاری کو واجب سمجھتا ھے۔ پھر لکھا ھے کہ جن خطوط کا آپ نے ذکر کیا ھے ان میں سے بعض موجود ھیں بعض غائب ھوگئے، اور چونکہ خطوں کے لیجانے سے قاصدوں نے انکار کردیا ھے اس لئے راستوں کے پر امن ھو جانے اور امانت دار قاصدوں کے ملنے تک یہ مکتوبات روانہ نہ کئے جا سکیں گے ۔ معلوم ھوتا ھے صدر بن کبیر محمود گاواں کو توڑنا چاھتا تھا ۔ لیکن وہ گرگ صد باران دیدہ تھا ، خلجی وزیر کے دام تزویر میں نہ پھنسا ۔ خلجی بادشاہ سے عہد نامہ کی تدوین کے متعلق مکتوبات نشان ۱۸ و ۱۹ بھی ملاحظہ فرمائے جائیں۔