Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p69

Riyāḍ al-inshāʾ p69

p69

۳۹ ۱۵۷-۶۰ ( اوائل ماہ رمضان ) سلطان گیلان کے نام کو کن کی کسی چھاونی سے لکھا گیا ۔ مکتوب کو نہایت عجز و انکسار سے شروع کیا ہے ۔ اپنے کو ’’ کمینہ مخلص باوفا ،، کہا ہے۔ پھر دولت خواھی کا اظہار کیا ھے اور سلطان کو کوہ دم اور کوجستان کی فتح پر مبارکباد دی هے ۔ دو کن کی مہم کے حالات کی ضمن میں لکھا ہے کہ رینگنہ کا مستحکم اور بلند قلعہ محرم کے مہینے میں فتح هو گیا تھا ، لیکن سنگیسر کے راجہ کو اپنے علاقے کے دشوار گزار پہاڑوں اور جنگلوں اور مضبوط قلعوں پر بڑا گھمنڈ تھا ۔ اور راجہ اور اس کے متعلقین کے تقریباً تین سو جہاز مسلمانوں کا مال و اسباب لوٹنے کے لئے سمندر میں مختلف سمتوں میں چلتے تھے۔ مقابلہ اور اس علاقہ کی تسخیر کے لئے میں نے سوچا کہ جنگی قوت کے علاوہ مال و زر اور تسخیر قلوب کو بھی کام میں لانا چاھئے ۔ چنانچہ یکم رجب کو میں نے اپنی بہادر سپاہ کے ساتھ جس میں ترک و عرب اور کرد و حبوش شامل تھے ماچال کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا ، اور تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی اور تیغ زنی کے ایسے جوہر دکھائے کہ قلعہ تھوڑی دیر میں فتح ہو گیا ۔ ماچال کے مسخّر هو جانے سے راجہ پر بڑا اثر ھوا اور کیلنا ( کھیلنا ) کے قلعہ سے جہاں وہ مع اهل و عیال اور مال و متاع مقیم تھا اپنے بیٹے کو معتبر آدمیوں کے ہمراہ اطاعت کے پیغام کے ساتھ بھیجا ۔ چونکہ اصلی مقصد اس علاقہ پر قبضہ کرنا تھا اس لئے اس کی اور اس کے اهل و عیال کی جان بخشی مصلحت سمجھی۔ اور ولایت اسلام میں سے جس قدر گاؤں اس کے گزارہ کے لئے کافی ہوسکتے تھے اس کو عطا کئے گئے۔بعد میں گوا کے جزیرہ کا رخ کیا جو بیجا نگر کی حکومت کی سب میں بڑی بندرگاہ چاہیں تو ایک سال کے بعد آپ کو ایسا سرافراز اور فائز المرام پہنچا دیا جائیگا کہ چھوٹے بڑوں کی نگاہ میں آپ کی عزت اور وقار میں مزید اضافہ ہوجائیگا ۔ اس مکتوب میں بھی سنگیسر کے علاقے کی تسخیر کا ذکر ھے ۔