Pramāṇa · Search · About · API

Riyāḍ al-inshāʾ p73

Riyāḍ al-inshāʾ p73

p73

بہمنی سلطنت کے کسی وزیر کو ایسی چھاونی سے لکھا گیا ھے جہاں سے گووا صرف چوده (۱۴) فرسخ ره گیا هے - خواجہ کی فوج کے بعض افسر وھاں پہنچ چکے ھیں ، چنانچہ لکھا ھے اسعد خاں اور کشور خاں وھاں ھمارا انتظار کر رھے ھیں ۔ گووا کی زرخیزی اور شادابی کی تعریف کی ھے ، نارجیل اور چھالیہ کے درخت بکثرت ھیں اور نیشکر اور پانوں کی بھی ۴۱ ۱۷۲-۷۳ مشهور عالم جلال الدین دوانی کے نام ھے ۔ ان کو دکن بلایا ھے اور لکھا ھے کہ اگر علوم ظاهری کے پڑھانے کی طرف طبیعت مائل هو تو اس کا بھی یہاں پورا اهتمام ھے اور صاحب استعداد طالب علم موجود ھیں ۔ اخر میں ان کی صحت اور عافبت پر خوشی ظاهر کی ھے اور ملنے کی تمنا کو ان الفاظ میں بیان کیا ھے ۔ طیران مرغ خاطر این فقیر در هوای آن طرف است و چشم دل بستهام منتظر نظارهٔ رخسارهٔ آن عز و شرف ، ـ جلال الدین دوانی کے لئے تمھید صفحه ى ۔ و اور حبیب السیر ، جلد ۔ سوم ، جزء چهارم ، صفحه ۱۱۱ ملاحظه فرمائیے ۔ ۴۲ ۱۷۳-۷۵ مولینا کمال الدین رومی کے مکتوب کے جواب میں لکھا گیا ، مولینا نے اپنے بیٹے خلیل الله کو دکن بھیجا تھا ، خواجه نےکوکن کے ھی کسی مقام سے جواب دیا ھے، اور لکھا ھے کہ گذشتہ سال سے میں اس علاقہ کی تسخیر کے لئے آیا ھواھوں، بہت سے قلعے فتح ھوچکے ھیں ،شروع ذی قعد تک بیدر واپس پہنچ جاؤنگا ۔ آپ مولینا خلیل الله کی طرف سے بالکل مطمئن رھیں، میں ان کی مرضی کے مطابق انتظام کردونگا ۔ اس مکتوب میں چونکہ اصطرلاب ، اور افلاکیات کی اصطلاحات کا تلازمہ ھے اس لئے معلوم ھوتا ھے ، کہ مولینا کمال الدین کو هیئت اور متعلقہ علوم میں خاص مهارت تھی ۔ ۴۳ ۱۷۰-۷۶ ابوبکر طهرانی کو سنکیسر کی بندرگاہ سے لکھا گیا ھے ۔ ابوبکر طهرانی بڑے پایہ کا ادیب معلوم ھوتا ھے،وہ ھندوستان آنے سے ذرا گھبراتا ھے ۔ خواجه نے اسے اطمینان دلایا ھے کہ یه ملک داد و دهش اور عالی همّتی میں دنیا کے تمام ملکوں میں ممتاز ھے، اور یہاں همیشه علما اور فضلا آتے رھتے ھیں ۔ اگر یہاں آنے کے بعد آپ واپس وطن جانا ۵۰ ۱۸۵-۸۸ یہ مکتوب قاضی سرف الدین (المخاطب به صدر جھان) کے نام هے ۔ اس میں خواجه نے صدر جھاں کی کم التفاتی کا شکوہ کیا هے ۔ پھر لکها هے که میری گردن سوائے همایوں شاہ بہمنی کے احسانات کے اور کسی کے فضل و کرم سے دبی ھوئی نھیں هے ۔ اور اگر میں نے کسی نو وارد یا مملکت کے کسی رھنے والے کے ساتھ سلوک کیا هے تو یه میری عادت هے کسی کا کوئی حق مجھ پر واجب نه تها - اور چونکہ میری آپ سے دوستی هے اس لئے صاف صاف لکھ رها ھوں ۔ آخر میں خط بھیجنے کی آرزو ظاهر کی هے تاکہ دل کی کوفت رفع هو۔ اور یه بھی لکها هے که میرے دشمنوں اور حاسدوں کے کہنے سننے کا یقین نه کریں ۔ قاضی شرف الدین کے لئے ملاحظه هوسکٹوب ۱۷۱ صفحات ۲۴۲-۲۴۱ ۵۱ ۱۸۹-۹۰ یہ مکتوب محمد شاہ بہمنی کی طرف سے محمود شاه سلطان گجرات کے نام هے ۔ اسلام خان گجرات سے بطور سفیر آیا تھا اور دوستی اور اتحاد کا پیغام لایا تھا ۔ مکتوب میں اس پیغام پر خوشی کا اظہار کیا گیا هے اور یہ بھی درج هے که یہاں سے (بہمنی حکومت کی جانب سے) سید مظفر الدین کو روانه کیا جا رہا هے تاکہ باہمی اتفاق اور یگانگت اور مستحکم هو جائے ۔ پھر لکها هے فلاں ( خواجه محمود گاواں ) کو سنگیسر کی مہم کےلئے نامزد کردیا گیا هے ۔ تا که اس علاقہ کی ھر بندرگاه میں مسافروں اور تاجروں کی جان و مال محفوظ ھوجائے اور وہ بے کھٹکے آ جا سکیں۔ گذشته سال رینگنا کا قلعه جو ملیبار کی بندرگاهوں کی کنجی هے فتح ھو گیا تھا ۔ اور کچھ عرصه سے مابدولت کی فوجیں ماچال ، کھیلنا (کھيلنا) ، بلواره ، مریاد اور نگر کے قلعوں کا محاصرہ کئے ھوئے تھیں، تائید الہی سے یه سب قلعے فتح ھوگئے ۔ آخر میں سید مظفر الدین فراوانی هے - رینگنہ کے قلعہ کی تسخیر کی ضمن میں لکھا ھے ، کہ سنگیسر کے راجہ کا غرور اور گھمنڈ اپنے علاقے کے قدرتی موانع اور قلعوں کی مضبوطی پر غیر واجبی نہ تھا - اور ھم بغیر درھم و دینار اور تالیف قلوب محض بہادری سے اس علاقہ کو فتح نہیں کرسکتے تھا ۔ مکتوب کے آخر میں وزیر سے ھمت افزائی چاھی ھے ۔