Riyāḍ al-inshāʾ p88
Riyāḍ al-inshāʾ p88
p88
۶۴ ۲۲۷-۳۲ مولینا جامی کے خط کا جواب ھے۔ محب ، معتقد ، کی حیثیت سے دیدار کا شوق اور ھندوستان تشریف لانے کی تمنا ظاہر کی ھے ۔ اور لکھا ھے کہ میرے علاوہ بہت سے طالبین علوم باطنی اور سالکین راہ خدا ھیں جو آپ کی ھدایت اور فیضان کے منتظر ھیں ، بہت سے ادیب بھی آپ کے علم اور کمال سے خوشہ چینی کرنا چاھتے ھیں ۔ کعبۃ اللہ کی زیارت کے لئے بھی بعض معتقد آپ کی رہ نمائی کے متمنی ھیں ، تاکہ اس مقامِ منّور میں خاطر خواہ روحانی فروغ حاصل کرسکیں ۔ ھندوستان کے راستہ سے جانے میں بہت سے شہروں کا سفر اور سمندر کی مصیبتیں کم ھوجاھینگی ۔ یہاں کثرت سے اچھے جہاز موجود ھیں اور ماھر تاجر اور عملہ ھمرکابی کےلئے حاضر ھے ، علاوہ ازیں غلاموں اور خادموں کا بھی انتظام ھے ۔ چونکہ آپ کا زیارت کا پکا ارادہ ھے اور یہاں کے معتقدین آپ کی ہدایت کے متمنی ھیں اس لئے مجھے قوی امید ھے کہ میری آرزو ضرور پوری ھو گی اور آپ ھندوستان تشریف لائینگے ۔ ۶۲ ۲۱۳-۲۰ (اوائل رمضان ، دارالحرب بیجانگر) - سلطان محمد گیلانی کے نام ھے ۔ بادشاہ کے حسب و نسب کی تعریف کی ھے اور فتح و نصرت اور اقبال و سلطنت کی دعا دی ھے ۔ پھر شوق خدمت اور جذبہ عبودیت ظاهر کیا ھے اور لکھا ھے اگرچہ مجھ کو اس ملک میں ھر طرح کی عزت اور آبرو حاصل ھے لیکن شاهان گیلان کی تابعداری اور ملازمت کو فرض سمجھے جاتا ھوں، اور اسی وجہ سے میں نے اپنے بیٹے عبد الله کو گیلان میں خدمت گزاری کے لئے چھوڑ رکھا ھے، اگر اس کے وہاں دشمن ھیں تو میری رعایت اور حمایت کا خیال نہ فرمائیں بلکہ اپنے جاہ و جلال اور معدلت و مکرمت سے عبد الله پر نظر شفقت رکھیں ۔ مکتوب میں یہ بھی درج ھے کہ گزشتہ سال بیجانگر کے بعض قلعے اور بندرگا ھیں فتح ھوگئی ھیں اور عنقریب کچھ اور مقامات بھی مسخر هو جائینگے ۔ آخر میں استدعا کی ھے کہ فرامین سے مجھ کو (سوخته آتش انتظار) سرفراز فرماتے رھیں ۔ سلاطین گیلان کے نسب کے لئے ملاحظہ هو مکتوب ۱۳۸ -